امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ، امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، اور دونوں فریق ایک ممکنہ سمجھوتے کے ‘بہت قریب’ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، ایران نے کچھ حد تک شرائط پر اتفاق ظاہر کیا ہے، جو طویل المدتی امن کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران خلیجی ملک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ، ہم ایران کے ساتھ بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، اور جوہری معاہدے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ایران کو روکنے کے دو طریقے ہیں ،ایک مذاکرات کا، جو بہترین طریقہ ہے، اور دوسرا تشدد کا، جسے وہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق تازہ مذاکرات عمان میں اختتام پذیر ہو چکے ہیں، جن کے بعد مزید بات چیت کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ایک ایرانی ذریعے کے مطابق، فریقین کے درمیان تاحال کچھ اختلافات باقی ہیں، جنہیں ختم کرنا ابھی باقی ہے۔
اگرچہ تہران اور واشنگٹن دونوں سفارتی حل کو ترجیح دینے کی بات کر رہے ہیں، لیکن کئی ریڈ لائنز پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ ہے، جسے ایرانی حکام نے اپنی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ، ایران یہ سرگرمی مکمل طور پر بند کر دے، جبکہ ایران نے اسے اپنے عوامی حق کے طور پر تسلیم کرنے پر زور دیا ہے، البتہ افزودگی کی سطح کو شہری استعمال تک محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ، وہ اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر وہ 2015 کے معاہدے میں طے شدہ سطح سے نیچے جانے کو تیار نہیں، جس معاہدے سے ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
ایرانی صدر مسعود پزشک نے امریکی صدر کے اس بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا، جس میں ٹرمپ نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں سب سے تباہ کن قوت قرار دیا تھا۔ مسعود پزشک نے کہا کہ، امریکا خطے میں عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے اور ایران پر پابندیاں اور دھمکیاں دے کر قابو پانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
مذاکراتی ذرائع کے مطابق، ایران نے بعض رعایتوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جیسے افزودہ یورینیم کی کمی کا مرحلہ وار نفاذ، مگر امریکا اس پر متفق نہیں۔ دوسری طرف، تہران مغربی اقتصادی پابندیوں کے مکمل یا جزوی خاتمے کی شرط پر زور دے رہا ہے، جنہوں نے ایرانی معیشت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جو فریقین کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔