امریکی وزیر خارجہ، مارکو روبیو نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی ہم منصب، سبرامنیم جے شنکر سے رابطہ کر کے خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے پر زور دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، مارکو روبیو نے پہلگام حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ تعاون کے امریکی عزم کا اعادہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ، بھارت کشیدگی کم کرنے اور پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے لیے کام کرے۔
اس رابطے کے ساتھ ہی امریکی دفاعی معاہدے کرنے والے ادارے، ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے بھارت کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر مالیت کے دفاعی معاہدے کی بھی منظوری دے دی ہے، جس میں سمندری ویژن سافٹ ویئر اور تربیت شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ، یہ معاہدہ خطے کے فوجی توازن کو متاثر نہیں کرے گا، بلکہ استحکام لانے میں معاون ہوگا۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے وزیراعظم پاکستان ،شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا تھا، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کے حالیہ اقدامات کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیا۔ وزیراعظم پاکستان نے مارکو روبیو پر زور دیا کہ، وہ بھارت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کریں، اور یہ واضح کیا کہ، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف عالمی شراکت دار رہا ہے، بلکہ بھاری جانی و مالی قربانیاں بھی دے چکا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ،بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیاں دراصل پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، خاص طور پر افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروپوں جیسے داعش، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف جاری مہم سے۔
واضح رہے کہ، 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا، پاکستانی سفارتی عملے کی تعداد کم کر دی اور ویزے منسوخ کرنے جیسے جارحانہ اقدامات کیے۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ان اقدامات کے ردعمل میں بھارت کے سفارتی عملے کو 30 افراد تک محدود کر دیا اور واضح کیا کہ، پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، اور اگر اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تو اسے ’اعلان جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔
دونوں جوہری ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس اور امریکا کی جانب سے بارہا فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ، وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔