امریکا کی 400 سے زائد جامعات نے ٹرمپ اقدامات کی مذمت کیوں کی؟

امریکہ کی 400 سے زائد جامعات کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پرو-فلسطین سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ،ہم ایک آواز ہو کر حکومت کی مداخلت اور سیاسی اثراندازی کی مخالفت کرتے ہیں، جو اس وقت امریکی اعلیٰ تعلیم کے نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ، وہ تعمیری اصلاحات اور جائز حکومتی نگرانی کے خلاف نہیں، لیکن وہ تعلیم حاصل کرنے، رہنے اور کام کرنے والوں کی زندگیوں میں غیر ضروری حکومتی مداخلت کو قبول نہیں کر سکتے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ، وہ مالیاتی شفافیت کے حامی ہیں، لیکن عوامی تحقیقاتی فنڈز کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔
جامعات کے سربراہان کا کہنا تھا کہ، تعلیمی ادارے آزاد سوچ کے مراکز ہوتے ہیں جہاں اساتذہ، طلبہ اور عملہ بغیر کسی خوف یا انتقامی کارروائی کے خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
یہ بیان اُن خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ اور امریکہ کی ممتاز جامعات کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کے سبب پیدا ہوئے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ، تعلیمی ادارے ‘انتہا پسند نظریات’ کے زیر اثر ہیں، خاص طور پر اُن اداروں پر جنہوں نے غزہ میں نسل کشی کے خلاف مظاہروں کی اجازت دی۔
حکومت نے حریف اداروں پر ‘یہود دشمنی’ کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ، پرو-فلسطین مظاہرے اس کے ثبوت ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ، حکومت کی یہ پالیسیاں تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو مجروح کر رہی ہیں اور امریکہ میں علمی آزادی اور آزاد سوچ کی بنیادوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی، جس پر حکومت نے شدید دباؤ ڈالا، ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے مالی امداد روکنے کی دھمکیوں پر حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ، جامعات کے صدور نے اجتماعی طور پر حکومت کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد سابقہ تعلیمی رہنماؤں نے بھی ایک علیحدہ بیان پر دستخط کیے جس میں انہوں نے تمام سیاسی طبقوں، طلبہ، لیبر یونینز اور مقامی کمیونٹی پر مشتمل اتحاد کی تشکیل کی اپیل کی، تاکہ ‘آمریت’ کے خلاف جدوجہد کی جا سکے۔
امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز (AAUP) کی جانب سے ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے، جس میں حکومت کی جانب سے غیر ملکی طلبہ و محققین کے ویزے منسوخ کرنے اور ان کی گرفتاریوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی حمایت میں 86 تعلیمی ادارے اور تنظیمیں قانونی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں