تاجکستان اور ازبکستان – ہمسایہ تعلقات کا نیا دور

تاجکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات گہری تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے رسمی طور پر 1992 میں سفارتی تعلقات قائم کیے، لیکن ان کے درمیان بھائی چارے، مشترکہ تاریخ اور ثقافتی ورثے کی بنیادیں صدیوں پر محیط ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں ہمسایہ ممالک نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔
تاشقند میں 3 جون 2022 کو ہونے والی ملاقات میں ازبکستان کے صدر شوکت مرضایئو اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس ملاقات کے دوران ایک خوشگوار اور دوستانہ ماحول دیکھنے میں آیا۔ صدر مرضایئو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ازبکستان تاجک عوام کے ساتھ دوستی اور ہمسایہ داری کو خلوص دل سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اقوام مشترکہ تاریخ، ثقافتی و روحانی ورثے اور آباؤ اجداد کی اچھی روایات سے جڑی ہوئی ہیں اور ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتی آئی ہیں، چاہے خوشی کا موقع ہو یا آزمائش کا وقت۔
صدر امام علی رحمان نے ازبک صدر کے ذاتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاجکستان ان کی جانب سے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال تاجکستان اور ازبکستان سفارتی تعلقات کی 32ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور اس تاریخی موقع پر دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو اتحاد کے درجے تک بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عزم کو “ابدی دوستی اور اتحاد کو مضبوط بنانے کے اعلامیے” پر دستخط کے ذریعے مزید تقویت ملی۔
دونوں ممالک نے مستقبل کے تعاون کے لیے کئی منصوبوں پر بھی اتفاق کیا ہے، جن میں جدید ٹرانزٹ کاریڈورز اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کا قیام، ہوائی، ریل اور بس سروسز میں وسعت، مشترکہ زرعی کلسٹرز اور تیسرے ممالک کی منڈیوں میں مشترکہ رسائی شامل ہیں۔ دونوں حکومتوں کا مشترکہ ہدف اپنے عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ازبکستان اور تاجکستان نے اپنی دوطرفہ شراکت داری کو رسمی طور پر اتحادی تعلقات میں تبدیل کر دیا ہے۔ صدر شوکت مرضایئو کے 2017 میں ازبکستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ کشیدگی کا خاتمہ ہوا اور تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ مارچ 2018 میں، صدر مرضایئو نے طویل عرصے کے بعد تاجکستان کا تاریخی دورہ کیا، جس کے دوران کئی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں ویزہ نظام کا خاتمہ اور سرحدی گیٹس کی بحالی شامل تھی۔
31 مارچ 2025 کو، خجند میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں صدر شوکت مرضایئو اور صدر امام علی رحمان کی موجودگی میں اتحادی تعلقات کے معاہدے کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا۔ اس معاہدے پر ابتدائی طور پر 18 اپریل 2023 کو دوشنبے میں دستخط کیے گئے تھے۔ دستاویزات کے تبادلے کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور کثیرالجہتی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا۔
حالیہ دنوں میں، 4 اور 5 اپریل 2025 کو سمرقند میں یورپی یونین اور وسطی ایشیائی ممالک کا پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس تاریخی اجلاس میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے رہنماؤں کے علاوہ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر یورپی یونین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کے درجے تک بلند کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ازبک صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ وسطی ایشیا اور یورپی یونین کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، اور اجلاس کے نتیجے میں ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
صدر مرضایئو نے ازبک اور تاجک عوام کی قربت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دو اقوام ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی دریا کی ندیاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی اچھی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے عوامی دوستی کو مزید مضبوط اور محفوظ کرنا چاہیے۔
ازبکستان نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کیے ہیں، تاہم تاجکستان کے ساتھ اس کا رشتہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مشترکہ تاریخ، ثقافت اور روحانی اقدار پر مبنی یہ تعلقات دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دیرپا تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو آنے والے وقتوں میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں