اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ، وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتریس کے ترجمان، اسٹیفن دوجارک نے پریس کانفرنس میں دونوں ممالک پر زور دیا کہ، وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو حالات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتے ہوں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ، اگرچہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت یا پاکستان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم اقوام متحدہ کی قیادت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، اقوام متحدہ کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تنازعات کو بامعنی، باہمی اور پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ، بھارت نے منگل کے روز مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں پیش آنے والے ایک حملے، جس میں مبینہ طور پر 26 سیاح ہلاک ہوئے، کو جواز بناتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان پر الزام عائد کرنے کے ساتھ جارحانہ اقدامات کا سلسلہ شروع کیا۔ بھارت نے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا، اٹاری بارڈر بند کر دیا، اسلام آباد میں موجود اپنے دفاعی اتاشی کو واپس بلا لیا اور بھارتی ہائی کمیشن کے سفارتی عملے میں بھی کمی کر دی۔
پاکستان نے بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات کے ردعمل میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بڑے فیصلے کیے۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کا عندیہ دیا، بھارت کے لیے فضائی حدود اور سرحدی راستے بند کر دیے اور ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
مزید برآں، پاکستان میں تعینات بھارتی سفارتی عملے کی تعداد کو کم کر کے 30 کر دیا گیا ہے، جبکہ بھارتی دفاعی، فضائی اور بحری مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ سکھ یاتریوں کے سوا تمام بھارتی شہریوں کے ویزے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں، اور انہیں 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔