پہلگام میں ہونے والے حالیہ حملے کے بعد، بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیرِ تعلیم مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مقبوضہ کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما ناصر کھوہامی نے بتایا ہے کہ کشمیری طلبہ کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ریاستوں اتراکھنڈ، اتر پردیش اور ہماچل پردیش میں کشمیری طلبہ کو ان کے کرائے کے اپارٹمنٹس اور ہاسٹلز خالی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
ناصر کھوہامی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہماچل پردیش کی ایک یونیورسٹی میں ہاسٹل کے دروازے توڑ کر طلبہ کو ہراساں کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منظم مہم ہے جس کے تحت ایک خاص علاقے اور شناخت رکھنے والے طلبہ کو نفرت اور تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ تین روز قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے ایک سیاحتی مقام پر فائرنگ کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 26 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے یہ واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔