فلسطین انسانی ضمیر کا مسلسل امتحان

1948 میں جب ریاستِ اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا، تو صرف فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ نہیں کیا گیا، بلکہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو بھی بے نقاب کیا گیا۔ آج 75 سال گزرنے کے باوجود مظلوم فلسطینی اپنی زمین، شناخت اور بقاء کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، اور عالمی ضمیر بے حسی کی چادر اوڑھے تماشائی بنا بیٹھا ہے۔
فلسطین صدیوں تک خلافتِ عثمانیہ کا حصہ رہا، مگر پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1917 میں اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) کے ذریعے برطانوی حکومت نے صہیونیوں کو فلسطین میں ایک “یہودی قومی وطن” کے قیام کی حمایت کا عندیہ دیا۔ یہ اعلامیہ دراصل نوآبادیاتی عزائم کا تسلسل تھا۔

1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 181 کے ذریعے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ فیصلہ فلسطینیوں کی مرضی کے خلاف اور اقلیت کو اکثریت پر فوقیت دینے کے مترادف تھا۔ یہودی، جو اُس وقت مجموعی آبادی کا صرف 33 فیصد تھے، انہیں 56 فیصد رقبہ دے دیا گیا، جبکہ 67 فیصد فلسطینیوں کے حصے میں صرف 44 فیصد زمین آئی۔

یہ ظلم فلسطینیوں کے لیے صرف زمینی نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور نفسیاتی تباہی تھی، جسے وہ آج بھی (Nakba) یعنی یومِ تباہی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اسرائیل کی ریاست نے قیام کے ساتھ ہی نہ صرف فلسطینیوں کو بے دخل کیا بلکہ اُن کے گھروں، زمینوں، عبادت گاہوں اور ثقافت کو منظم طریقے سے مٹانے کا عمل شروع کیا۔ اس کی موجودہ پالیسیاں بھی اُسی تسلسل کا حصہ ہیں
اقوامِ متحدہ کے مطابق صرف مغربی کنارے میں 140 سے زائد غیر قانونی بستیوں کا قیام ہو چکا ہے (UN OCHA, 2023)
700 کلومیٹر طویل دیوار بنا دی گئی جو فلسطینیوں کو اُن کی زمین، روزگار اور تعلیم سے کاٹ دیتی ہے (Amnesty International)
مشرقی یروشلم کو اسرائیل نے 1980 میں غیر قانونی طور پر اپنا دارالحکومت قرار دیا، جسے اقوامِ متحدہ نے مسترد کر دیا
2007 سے جاری محاصرہ، جسے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے “اجتماعی سزا” قرار دیا تھا
انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے Human Rights Watch اور Amnesty International اسرائیل کی کارروائیوں کو “جنگی جرائم” قرار دے چکی ہیں

2021 میں ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل کو “Apartheid State” قرار دیا، اور 2022 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسی مؤقف کو دہرایا، جس میں اسرائیل کی نسل پرست پالیسیوں کو واضح کیا گیا۔

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ، جسے ماہرین “21ویں صدی کی سب سے تباہ کن جنگ” قرار دے رہے ہیں، میں اسرائیل نے غزہ پر بدترین بمباری کی۔
بی بی سی اور The Washington Post کے مطابق 3 ماہ میں 30,000 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل تھے۔
‏World Health Organization کے مطابق 70 فیصد اسپتال مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
‏UNICEF کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چوتھا فلسطینی بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

یہ سب کچھ اقوامِ متحدہ کے علم میں ہونے کے باوجود عالمی طاقتیں خاموش ہیں۔ امریکہ نے سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کو ویٹو کیا، اور یورپی ممالک محض “تشویش” کا اظہار ہی کرتےہیں۔
عرب لیگ اور OIC کی قراردادیں زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ بعض مسلم ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ عوام کی طرف سے فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوتے ہیں، لیکن سرکاری پالیسی بین الاقوامی دباؤ اور محتاط سفارتکاری کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

اس پس منظر میں ترکی، ایران، ملیشیا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک نے واضح اور عملی مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر جنوبی افریقہ نے 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کر کے عالمی توجہ حاصل کی

فلسطین صرف ایک زمینی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی انصاف کے نظام کا امتحان ہے۔ مظلوم فلسطینی صرف اپنی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل یہ آگ ہمارے دروازے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

فلسطینیوں کی حمایت اب صرف مذہبی یا قومی معاملہ نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔

جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا

اگر ہو عشق، تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق

ہمیں چاہئے کہ ہم سوشل میڈیا، علمی حلقوں، نصاب، مساجد، اور سیاسی سطح پر مظلوموں کی آواز بنیں، تاکہ تاریخ ہمیں خاموش تماشائیوں میں شمار نہ کرے۔مسلم حکومتوں کو اس پر عملی اقدام کرنا ہوں گے۔
محمود درویش فلسطینی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
سنسقط كالصباح على الأرض
نحمل البلاد على أكفّنا، ونمضي
ہم زمین پر صبح کی طرح گریں گے،
اپنے وطن کو ہتھیلیوں پر اٹھائے، اور چلتے جائیں گے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں