کابل کے کالجوں میں سفید شلوار قمیض اور سیاہ پگڑی لازم کیا یہ افغان ثقافت کی عکاسی ہے؟

افغانستان کی موجودہ حکومت نے ملک کے تعلیمی اداروں میں ایک نیا ڈریس کوڈ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اب کابل کے کالج کے طلبہ سفید شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ رنگ کی پگڑی پہننے کے پابند ہوں گے، جبکہ اسکول کے طلبہ کو نیلی شلوار قمیض کے ساتھ ٹوپی پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
افغان حکومت اس اقدام کو مقامی ثقافت کے فروغ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی حکومت کی جانب سے دفاتر میں مقامی لباس کے استعمال اور خواتین کے لیے عبایہ یا برقعہ پہننے جیسے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، اس سوال نے جنم لیا ہے کہ کیا سفید شلوار قمیض اور سیاہ پگڑی واقعی افغانستان کی تمام تر ثقافتی تنوع کی نمائندگی کرتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کثیر النسلوں پر مشتمل ایک ملک ہے اور ہر نسل اپنی منفرد ثقافت اور روایات رکھتی ہے۔ شلوار قمیض اگرچہ ایک مقبول عام لباس ہے اور اس میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں، لیکن سر ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹوپیاں اور پگڑیاں مختلف نسلی شناختوں کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔
افغانستان کے شمالی علاقوں جیسے مزار شریف، فاریاب اور جوزجان سے تعلق رکھنے والے ازبک باشندے اپنی مخصوص ازبک ٹوپی پہنتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی قندھار کے نوجوانوں میں قندہاری ٹوپی عام ہے۔ تاجک نسل کے افراد ایک مخصوص قسم کی ٹوپی استعمال کرتے ہیں جسے پکول کہا جاتا ہے۔ یہ ٹوپی خاص طور پر احمد شاہ مسعود کی پہچان بنی اور وہ اسے ایک مخصوص انداز میں سر کے پچھلے حصے پر پہنا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ قراقلی ٹوپی، جسے پاکستان میں جناح کیپ بھی کہا جاتا ہے، بھی افغانستان میں رائج رہی ہے اور حامد کرزئی کے استعمال کے بعد اسے خاصی مقبولیت ملی۔
سیاہ پگڑی عموماً پشتون نسل کے افراد اور ان کے مختلف قبائل پہنتے ہیں۔ پشتون، افغانستان کی آبادی میں سب سے بڑی نسلی برادری ہیں اور موجودہ افغان حکومت کی اکثریت کا تعلق بھی اسی نسل سے ہے۔ پشتون قبائل میں سیاہ پگڑی پہننے کا رواج عام ہے، جسے ایک ٹوپی کے گرد لپیٹ کر اس کا ایک سرا کندھے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اور اب یہی سیاہ پگڑی کابل کے کالج کے طلبہ کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
اس فیصلے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے ایک مخصوص نسلی لباس کو تمام طلبہ پر مسلط کرنا ملک کی وسیع اور متنوع ثقافت کی عکاسی کرتا ہے؟ کیا اس اقدام سے دیگر نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اپنی ثقافتی شناخت کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوں گے؟
حکومت کا یہ استدلال کہ وہ مقامی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے قابل بحث ہے، کیونکہ افغانستان کی مقامی ثقافت صرف ایک رنگ یا ایک طرز کے لباس تک محدود نہیں ہے۔ یہ مختلف رنگوں، ڈیزائنوں اور شناختوں کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں