بھارتی کشمیر: سیاحوں پر بدترین حملہ، سکھ فار جسٹس کے سربراہ کا پیغام

بھارتی کشمیر کے علاقے، پہلگام میں حالیہ دہشت گرد حملے کو لے کر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، اور اب سکھ فار جسٹس کے سربراہ، گرپتونت سنگھ پنوں نے اس حملے کو ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ، یہ خونریزی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ کی سازش تھی، جس کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور کشمیری تحریک آزادی کو بدنام کرنا تھا۔
بیرون ملک مقیم سکھ رہنما، گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے ویڈیو بیان میں واضح طور پر کہا کہ، پہلگام حملے میں مارے گئے افراد کی ہلاکت بھارتی ایجنسیوں کی کارروائی کا نتیجہ ہے، جسے خاص طور پر نائب امریکی صدر، جے ڈی وینس کے دورہ بھارت کے دوران ترتیب دیا گیا۔


ان کا کہنا تھا کہ، اس حملے کا کشمیریوں کو کیا فائدہ؟ اصل فائدہ تو بھارتی حکومت کو ہوا، جس نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر دنیا سے ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ،سکھ فار جسٹس اس حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ مودی حکومت نے کشمیریوں کی پرامن تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، بھارت صرف اپنے مفادات کے لیے نہ صرف پاکستان، بلکہ امریکا اور کینیڈا میں بھی دہشت گردی جیسے واقعات میں ملوث رہا ہے۔
پنوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ،وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ،وہ بھارتی ریاست کی ان جارحانہ اور دہشت گردانہ پالیسیوں کا نوٹس لے۔

پس منظر:
22 اپریل کوبھارتی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام، پہلگام میں ایک افسوسناک اور ہولناک واقعے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 24 سیاح ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ گزشتہ ایک سال میں مقبوضہ وادی میں پیش آنے والا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ حملہ گھنے جنگلات کے قریب ایک میدان میں کیا گیا، جہاں اس وقت متعدد سیاح موجود تھے۔ سیکیورٹی ذرائع نے مرنے والوں کی تعداد 20 سے 26 کے درمیان بتائی ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔


ایک عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ، اچانک فائرنگ شروع ہوئی، پہلے تو لگا کوئی پٹاخے چلا رہا ہے لیکن جلد ہی چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ دوسرے چشم دید نے کہا کہ، وہ 4 کلومیٹر تک مسلسل دوڑتے رہے کیونکہ وہ خوف سے کانپ رہے تھے۔ ایک ٹور گائیڈ کے مطابق، کئی زخمیوں کو وہ خود گھوڑے پر اسپتال لے گئے۔
زخمیوں کو قریبی اننت ناگ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ طبی عملہ مسلسل متاثرہ افراد کا علاج کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ‘کشمیر ریزسٹنس’ نامی ایک غیر معروف گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ نے پیغام میں کہا کہ،کشمیر میں "باہر کے لوگوں” کی آبادکاری کو قبول نہیں کیا جائے گا، اور اسی پالیسی کے خلاف یہ کارروائی کی گئی۔
تاہم، بین الاقوامی خبر رساں ادارے،رائٹرز نے واضح کیا کہ، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
بھارتی وزیراعظم، نریندر مودی نے دورہ سعودی عرب مختصر کرتے ہوئے وطن واپسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان میں حملے کی مذمت کی اور وعدہ کیا کہ، حملہ آوروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ، یہ ایک گھناؤنا فعل ہے، جو دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔
وزیر داخلہ، امت شاہ کو بھی حملے پر بریفنگ دی گئی اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ، جائے وقوعہ کا دورہ کریں۔
سابق وزرائے اعلی،ٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ، بے گناہ سیاحوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی نائب صدر بھارت کے دورے پر ہیں، جس کے باعث اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر توجہ ملنے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ، مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے مسلح تحریک جاری ہے، جس میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بھارت نے وادی میں تقریبا5 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جب کہ گزشتہ دو برسوں میں 85 ہزار سے زائد غیر مقامی افراد کو کشمیر میں ڈومیسائل حقوق دیے گئے ہیں، جس پر مقامی آبادی کو سخت تحفظات ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں