رواں برس 16 جنوری کی رات نوابزادہ سیف علی خان پر چاقو حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے کچھ ہی ماہ بعد انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک شاندار گھر خرید لیا، جس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ کیا وہ بھارت چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں؟
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف علی خان نے قطر کے مشہور سینٹ ریگیس مارسا عربیہ جزیرے پر واقع ‘دی پرل’ میں ایک پرتعیش پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اُن کی موجودہ جائیدادوں جیسے پٹودی محل اور باندرہ اپارٹمنٹ کے بعد ایک نیا اضافہ ہے۔
ایک حالیہ پریس کانفرنس میں سیف نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ گھر بطور ہالیڈے ہوم یا سیکنڈ ہوم خریدا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کی سب سے بڑی خوبی اس کا محفوظ ماحول ہے، جو اُن کے لیے سب سے اہم فیکٹر تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ جگہ نہ صرف دلکش مناظر، عمدہ خوراک اور پرسکون طرزِ زندگی کے حوالے سے مثالی ہے بلکہ یہاں تک رسائی بھی انتہائی آسان ہے۔
سیف علی خان نے اس گھر کو "ایک جزیرے کے اندر ایک جزیرے کا پرتعیش تصور” قرار دیا اور کہا کہ قطر میں رہنے کا تجربہ نہایت خوشگوار تھا، خاص طور پر جب وہ وہاں شوٹنگ کے دوران مقیم تھے۔ گو کہ ان کا یہ قدم چاقو حملے کے بعد سامنے آیا، لیکن ان کے بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قدم کسی وقتی خوف کے بجائے ایک سوچے سمجھے پرسنل انویسٹمنٹ پلان کا حصہ ہے، اور وہ فی الحال بھارت چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔