یونان میں ایسٹر کے موقع پر ’راکٹ جنگ‘ کی دلکش روایت، آسمان جگمگا اٹھا

یونان کے جزیرے خیوس میں ایسٹر کا تہوار نہ صرف مذہبی عقیدت سے منایا جاتا ہے بلکہ ایک نہایت منفرد اور دلچسپ روایت کے ساتھ بھی جُڑا ہے۔ شہر ورونتادوس میں ہر سال آرتھوڈوکس گرجا گھروں کے درمیان ہونے والی ’راکٹ جنگ‘ اس تہوار کا سب سے خاص پہلو سمجھی جاتی ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق اس روایت میں دو قریبی گرجا گھر — اگائیوس مارکوس اور پاناجیا ایریتھیانی — ایک دوسرے کے بیل ٹاورز کو گھریلو ساختہ راکٹوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے ہی رات ہوتی ہے، سیکڑوں راکٹ آسمان کو روشنیوں سے بھر دیتے ہیں، اور پورا علاقہ جگمگا اٹھتا ہے۔ اس نظارے کو دیکھنے مقامی افراد کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی بڑی تعداد بھی وہاں جمع ہوتی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس روایت کی جڑیں کئی صدیوں پرانی ہیں۔ ابتدائی طور پر توپوں کے ذریعے جشن منایا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ نسبتاً کم نقصان دہ چھوٹے راکٹوں نے لے لی۔ راکٹ ہاتھ سے تیار کیے جاتے ہیں اور خاص اہتمام کے ساتھ گرجا گھروں کی سمت فائر کیے جاتے ہیں۔

ورونتادوس کے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں حکومتی قوانین اور حفاظتی ضوابط کی وجہ سے راکٹوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن اس روایت کا جوش و خروش آج بھی پہلے جیسا ہے۔ ان کے مطابق یہ تہوار صرف مذہبی عقیدت کا اظہار ہی نہیں بلکہ کمیونٹی کو اکٹھا کرنے اور یونانی ثقافت کی جھلک دکھانے کا ذریعہ بھی ہے۔

یونان کی یہ راکٹ جنگ عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور ہر سال ہزاروں سیاح اس دلچسپ روایت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے خیوس کا رخ کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں