پاکستان میں پانی کی کمی، صوبائی اختلافات اور بین الاقوامی چیلنجز

پانی ایک انمول قدرتی وسیلہ ہے جس پر انسانی زندگی، معیشت، زراعت اور صنعتی ترقی کا انحصار ہے۔ اور پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں معیشت کا دارومدار بڑی حد تک آبپاشی پر ہے، لیکن یہاں پانی کی قلت ایک بڑھتا ہوا بحران بن چکی ہے۔ اس کے باعث نہ صرف زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ ملک میں صوبائی سطح پر اختلافات اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی بھی جنم لے رہی ہے۔

پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ناقص آبی نظام کی وجہ سے ملک کو شدید پانی کی قلت کی طرف لیجا رہی ہے
ملک میں پرانے طریقہ ہائے کاشت کی وجہ سے بے تحاشا پانی ضائع ہوتا ہے، جبکہ بڑے ذخائر کی عدم موجودگی کے باعث بارش اور برفباری کا قیمتی پانی بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
پرانے نہری نظام کی وجہ سے بھی ہمارا بہت سارا پانی ہم استعمال نہیں کر پاتے اور وہ سمندر کا حصہ بن جاتا ہے۔
صوبوں کا پانی کی تقسیم پر اختلاف بھی پانی کے مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان میں پانی کی تقسیم 1991 کے “انڈس واٹر اکورڈ” کے تحت کی جاتی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد میں کئی مسائل ہیں۔
سندھ کا موقف ہے کہ پنجاب زیادہ پانی استعمال کرتا ہے اور سندھ کو اپنا جائز حصہ نہیں ملتا۔
پنجاب کے مطابق وہ آبادی اور زرعی زمین کے حساب سے اپنا حق لے رہا ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بھی شکایت ہے کہ نہ صرف پانی کم دیا جاتا ہے بلکہ نہری نظام بھی کمزور ہے جس سے پانی وقت پر نہیں پہنچتا۔ کالا باغ ڈیم پاکستان کا سب سے متنازع مگر تکنیکی طور پر انتہائی اہم آبی منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر پر چاروں صوبوں کا مؤقف مختلف ہے، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ کئی دہائیوں سے تعطل کا شکار ہے۔ اور اس موضوع پر بھی صوبوں میں اختلاف موجود ہے

پنجاب کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا سب سے بڑا حامی ہے۔
پنجاب کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم سیلابوں کو کنٹرول کرے گا، زرعی زمینوں کو وافر پانی مہیا کرے گا اور سستی پن بجلی پیدا کرے گا۔
اس منصوبے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھے گی اور فصلوں کو بہترفراہمی آب ممکن ہو سکے گی۔
اس ڈیم سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا، اس لیے صوبائی سیاست کو آڑے نہیں آنا چاہیے۔
سندھ کو خدشہ ہے کہ پنجاب، جو اپر ریچ پر واقع ہے، ڈیم کے ذریعے سندھ کے حصے کا پانی روک لے گا۔
سمندر میں جانے والے پانی کی مقدار مزید کم ہو جائے گی، جس سے سمندری پانی زمین میں داخل ہو کر لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کو ناقابل کاشت بنا دے گا۔
سندھ کے عوامی اور سیاسی حلقے اسے اپنی بقا کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
خیبرپختونخوا بھی کالا باغ ڈیم کا مخالف رہا ہے، مگر اس کی مخالفت کی وجوہات مختلف ہیں
اس صوبے کو خدشہ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو نوشہرہ اور دوسرے نشیبی علاقے زیرِ آب آ جائیں گے۔
کے پی کے بعض ماہرین اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں متاثر ہوں گی اور آبادی کو منتقل کرنا پڑے گا۔
تاہم کچھ تکنیکی ماہرین اور انجینئرز نے ان خدشات کو غلط قرار دیا ہے، انکے مطابق اگر کالا باغ ڈیم کی بلندی اور ڈیزائن میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں تو خیبرپختونخوا کے خدشات دور کیے جا سکتے ہیں مگر عوامی رائے میں بداعتمادی موجود ہے
بلوچستان کا مؤقف نسبتاً کم واضح ہے، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ بلوچستان کو خدشہ ہے کہ اس کے حصے کا پانی بھی متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ پہلے ہی پانی کی منصفانہ تقسیم پر شکایات موجود ہیں۔انکا مطالبہ ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے 1960 میں “سندھ طاس معاہدہ” ہوا۔ اس کے تحت تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو دئیے گئے۔تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دئیے گئے۔

بھارت کو مغربی دریاؤں سے صرف محدود استعمال (پینے، زراعت، اور non-storage پن بجلی) کی اجازت ہے لیکن بھارت ان حدود سے تجاوز کرتا نظر آتا ہے، خصوصاً جب وہ مغربی دریاؤں پر ذخائر بناتا ہے یا بہاؤ کو محدود کرتا ہے
بھارت نے مغربی دریاؤں پر ڈیمز اور پن بجلی منصوبے شروع کیے ہیں جن سے پاکستان کو خطرہ ہے کہ بھارت پانی روک کر زرعی اور معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے اقوام متحدہ اور عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔
ہم پاکستان میں درج زیل اقدامات کے زریعہ پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

1. نئے ڈیمز کی تعمیر (جیسے بھاشا، مہمند، کالا باغ وغیرہ)
2. جدید آبپاشی نظام (ڈرِپ اور اسپرنکلر ایریگیشن)
3. شفاف پانی کی تقسیم (IRSA کو بااختیار اور غیرجانبدار بنانا)
4. عوامی شعور کی بیداری (میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے)
5. بین الاقوامی سطح پر اقدامات (پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری)
6-ماحولیاتی تبدیلی کے اسباب پر قابو پانا اور جنگلات کے تحفظ و اضافے پر خصوصی توجہ دینا

پانی کی قلت پاکستان کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ نہ صرف داخلی سطح پر اختلافات کو جنم دے رہی ہے بلکہ بھارت جیسے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بھی پیدا کر رہی ہے۔ اگر اس مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی بنانی چاہیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں