بھارتی فلم انڈسٹری جسے بالی وڈ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، آج کل مسائل کا شکار ہے، کئی بڑے بجٹ کی فلمیں پچھلے دو ڈھائی برسوں میں فلاپ ہوئی ہیں، مشہور بالی وڈ ڈائریکٹرز کے کام پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے کہ یہ جدید تقاضوں کے مطابق اچھی فلمیں نہیں بنا رہے۔ پچھلے دو برسوں میں میگاہٹ فلمیں یا تو ساوتھ کی ہیں یا پھر ان کے ڈائریکٹر ساوتھ کے ہیں، خود شاہ رخ خان، سلمان خان وغیرہ بھی ساوتھ کے ہدایت کاروں کے ساتھ جا رہے ہیں یا اپنی فلموں میں ایک آدھ معروف ساوتھ کے اداکار کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل سپرسٹار عامر خان نے بالی وڈ چھوڑنے کا عندیہ کیا۔ گینگز آف واسع پور جیسی فلم کے ڈائریکٹر انوراگ کیشب بالی وڈ چھوڑ کر ساوتھ میں کام کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
اب معروف اداکار سنی دیول نے بھی کہا ہے کہ بالی وڈ پروٖڈیوسروں کو ساوتھ کے پروڈیوسرز سے سیکھنا چاہیے ۔ بالی وڈ کو پہلے ہندی سینما بننا چاہیے۔
سنی دیول نے اپنی فلم جات کی پروموشن کے موقعہ پر اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس ڈھائی کلو کے ہاتھ کی طاقت نارتھ انڈیا
دیکھ چکا، اب ساوتھ انڈیا بھی دیکھے گا۔
سنی دیول کے مطابق ساوتھ کے فلمساز فلم اور کہانی پر پوری محنت کرتے ہیں، موضوع پر توجہ دیتے ہیں، ان کے لئے فلم کا ہیرو خاص ہوتا ہے اور وہ اس پر محنت کرتے ہیں، اس لئے مجھے ان کے ساتھ کام کرنے میں مزا آتا ہے۔ واضح رہے کہ سنی دیول کی یہ فلم “جات” ساوتھ کی فلم ہے ۔ اسے سینما گھروں میں ہندی، تامل اور تیلگو زبانوں میں ریلیز کیا جائے گا۔ سنی دیول کا یہ کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے میں مستقبل میں بالی وڈ چھوڑ کر ساوتھ فلم انڈسٹری کا حصہ بن جائوں۔
یہ رجحان اس لحاظ سے دلچسپ اور پریشان کن ہے کہ بالی وڈ دنیا کی اہم فلم انڈسٹری شمار ہوتی ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کے زوال سے ہندی سینما کو نقصان پہنچے گا یا پھر ساوتھ والے ہی ہندی فلمیں بنا کر اس خلا کو پر کر دیں گے یا پھر بالی وڈ ڈائریکٹرز ہی نئے موضوعات پر اچھی فلمیں بنائیں گے؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔