اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو 2050 تک دنیا کے جنوبی خطے کے دس بڑے شہروں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کا شدید رجحان دیکھنے میں آئے گا۔ ان شہروں میں پاکستان کا کراچی اور بنگلا دیش کا ڈھاکا وہ دو بڑے ایشیائی مراکز ہوں گے جہاں موسمیاتی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UN-ESCAP) کی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ، ڈھاکا میں 30 لاکھ 70 ہزار، جبکہ کراچی میں 24 لاکھ افراد آب و ہوا کی شدت اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث ہجرت کر سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کو آئندہ ماہ بنکاک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے 81ویں سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں خطے کے شہروں کو درپیش چیلنجز اور ممکنہ حل پر غور کیا جائے گا۔
رپورٹ میں خاص طور پر کراچی کو ایک ایسے شہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو منقسم دائرہ اختیار اور انتظامی پیچیدگیوں کے باعث شدید مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور اہم ترین معاشی مرکز کے باوجود، کراچی عالمی معیارِ زندگی کی درجہ بندی میں اکثر نچلے درجے پر پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ شہر میں بنیادی ڈھانچے کی ناکافی منصوبہ بندی اور حکومتی اختیارات کی غیر واضح تقسیم ہے۔ شہر کی نگرانی کئی مختلف سرکاری ادارے کرتے ہیں، جن کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کے سبب ترقیاتی منصوبے اکثر تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ اسی بدنظمی کے نتیجے میں 2020 میں کراچی کو بدترین شہری سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جس نے شہر کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ لاہور جیسے بہتر منصوبہ بندی کے حامل شہر ایسے بحران سے کافی حد تک محفوظ رہے۔
عالمی سطح پر ہجرت کے رجحانات پر نظر ڈالیں تو اس وقت دنیا میں موجود تمام تارکین وطن میں سے ایک تہائی کا تعلق ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے سے ہے، جہاں 6 کروڑ 66 لاکھ افراد ہجرت کر چکے ہیں۔ یہ خطہ 2.2 ارب شہریوں کا گھر ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں سے نصف سے زیادہ یہاں واقع ہیں۔ 2050 تک توقع کی جا رہی ہے کہ یہاں کی شہری آبادی میں 50 فیصد اضافہ ہوگا اور مزید 1.2 ارب افراد شہروں میں آباد ہوں گے۔
جنوب اور جنوب مغربی ایشیا میں 1960 میں شہری آبادی صرف 16 فیصد تھی، جو اب 36 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت جیسے ممالک میں شہری آبادی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ ،2036 تک بھارت کی 40 فیصد آبادی شہروں میں منتقل ہو چکی ہوگی، جبکہ شہری معیشت ملک کی مجموعی جی ڈی پی کا 70 فیصد پیدا کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، اگر بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اسے شہروں کی پائیدار ترقی اور رہائشی سہولیات میں بہتری پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جہاں شدید درجہ حرارت، پانی کی قلت، غذائی عدم تحفظ اور قدرتی آفات جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ خطہ طوفانوں، ہیٹ ویوز، شدید بارشوں اور دیگر موسمیاتی خطرات کی زد میں ہے، جن کے باعث شہری انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ، شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا ایک اہم سبب ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ افیکٹ’ ہے، جس کے تحت بلند و بالا عمارتیں، پختہ سڑکیں اور کنکریٹ کے ڈھانچے گرمی کو جذب کر کے ان شہروں کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہیٹ ویوز کے دوران مزید سنگین ہو جاتا ہے اور شہری آبادی کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے ساتھ پانی کی طلب میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ بڑے شہروں، جیسے ڈھاکا، کراچی، جکارتہ، ممبئی، شنگھائی اور بنکاک میں زیرزمین پانی کے حد سے زیادہ نکالے جانے کی وجہ سے زمین کے سکڑنے (Land Subsidence) کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ،بلکہ چٹاگانگ (بنگلہ دیش) اور سیمارنگ (انڈونیشیا) جیسے دوسرے درجے کے شہروں میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں تعمیراتی شعبے کو کاربن کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ ایشیا اور بحرالکاہل کے شہروں میں عمارتوں سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مجموعی طور پر 14 سے 33 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ، اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا ہے، تو تعمیراتی صنعت کو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست طریقے اپنانا ہوں گے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ ترسیلات زر پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ 2023 میں دنیا میں سب سے زیادہ ترسیلات زر وصول کرنے والے ممالک میں بھارت (120 ارب ڈالر)، چین (50 ارب ڈالر)، فلپائن (39 ارب ڈالر) اور پاکستان (27 ارب ڈالر) شامل تھے۔ یہ ترسیلات زر ان ممالک کے لیے نہ صرف ایک بڑا معاشی سہارا ہیں، بلکہ وہاں کی شہری معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ، جنوب اور جنوب مغربی ایشیا میں غیر رسمی بستیوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس وقت اس خطے میں 43 فیصد شہری آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں یہ شرح 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ان غیر رسمی بستیوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، جس کی وجہ سے یہاں رہنے والے افراد شدید ماحولیاتی اور صحت کے مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خطے کی حکومتوں کو سفارش کی گئی ہے کہ، وہ ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دیں۔ اس مقصد کے لیے شہروں کے درمیان مشترکہ نیٹ ورکس قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معلومات کے تبادلے اور بہترین طریقہ کار کے فروغ کے ذریعے مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معاہدوں، جیسے پیرس معاہدے اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، کو عملی جامہ پہنانے کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔
2050 تک کراچی اور ڈھاکا جیسے بڑے شہروں کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث وسیع پیمانے پر نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی، پانی کی قلت، شدید گرمی اور غیر موثر بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے یہ شہر پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں، اور اگر فوری طور پر پائیدار حکمت عملی نہ اپنائی گئی، تو مستقبل میں ماحولیاتی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔