بحیرہ اسود میں جنگ بندی کی امریکی کوششیں ، روس کے ساتھ مذاکرات شروع

امریکی اور روسی حکام نے پیر کے روز یوکرین میں ایک وسیع جنگ بندی کی طرف پیش رفت کے لیے سعودی عرب میں مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واشنگٹن کا مقصد بحیرہ اسود میں جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کرنا ہے، جس کے بعد وسیع تر معاہدے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ مذاکرات اتوار کو امریکہ اور یوکرین کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلینسکی اور روسی صدر پیوٹن دونوں سے بات چیت کی تھی۔

امریکی وفد کی قیادت وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سینئر ڈائریکٹر اینڈریو پیک اور محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکار مائیکل اینٹن کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد بحیرہ اسود میں بحری جنگ بندی حاصل کرنا ہے، تاکہ جہاز رانی کے لیے آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہو سکے۔

یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب یوکرین اور روس کے درمیان تناؤ جاری ہے۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی نے جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ روسی صدر پیوٹن نے مکمل جنگ بندی کو یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور فوجی تعیناتی معطل کرنے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں