پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کی فروخت، ایک فرنچائز کی ممکنہ قیمت 2 سے ڈھائی ارب روپے مقرر

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں سیزن میں دو نئی فرنچائزز شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ہر ٹیم 7 سے 10 ملین ڈالر (تقریباً 2 سے ڈھائی ارب روپے) میں فروخت ہو سکتی ہے۔

پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کے بعد نہ صرف نئی ٹیمیں شامل کی جائیں گی بلکہ موجودہ فرنچائزز کے معاہدوں پر بھی نظرثانی ہوگی، جس کے تحت ان کی فیس میں اضافہ متوقع ہے۔ اس وقت ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم ہے، جس کی سالانہ فیس 6.3 ملین ڈالر (تقریباً 1.08 ارب روپے) ہے، جبکہ دیگر ٹیموں کی قیمتیں اس سے کم ہیں۔ تاہم، اگلے معاہدے میں ان کی مالیت میں 25 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

پی سی بی نے ڈالر کا سابقہ ریٹ 170 روپے رکھا تھا، لیکن اب ڈالر 282 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے فرنچائزز کی مالیت میں اضافہ متوقع ہے۔ اسی دوران، کئی کمپنیز اور سرمایہ کار پی ایس ایل میں نئی ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں، جن میں پاکستانی کاروباری گروپس، گریڈ ٹو کرکٹ میں شامل ادارے، امریکا اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔

موجودہ فرنچائزز کو خدشہ ہے کہ نئی ٹیموں کی آمد سے ان کا مالی حصہ کم ہو سکتا ہے، تاہم پی سی بی کا مؤقف ہے کہ ٹائٹل اسپانسر شپ اور براڈکاسٹ معاہدوں پر نظرثانی کے بعد سینٹرل پول میں اضافہ ہوگا، جس سے تمام ٹیموں کو فائدہ ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو مالی طور پر مستحکم پارٹی سے ہی ڈیل کرنی چاہیے، تاکہ ماضی کی طرح کوئی اونر ٹیم چھوڑ کر نہ چلا جائے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں