نادیہ حسین کے گھر ایف آئی اے سائبر کرائم کا چھاپہ، رشوت کے الزام پر تحقیقات شروع

مشہور ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین کے خلاف سوشل میڈیا پر ایف آئی اے افسر پر رشوت طلبی کا الزام لگانے پر پیکا ایکٹ کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، نادیہ حسین کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ جس شخص نے رشوت طلب کی، وہ ایف آئی اے کا اہلکار نہیں بلکہ ایک جعل ساز ہے۔ یہ جعل ساز وہاڑی سے تعلق رکھتا ہے اور اس نے کسی ایف آئی اے افسر کی تصویر لگا کر اداکارہ سے رابطہ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نادیہ حسین کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں شکایت درج کرائیں، لیکن انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر الزام لگا دیا، جسے بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگانا ایک قانونی جرم ہے اور اس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نادیہ حسین کے الزامات نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ ایک حساس ادارے کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے مترادف ہیں، جو کہ سنگین جرم ہے۔

اس معاملے کے پس منظر میں، نادیہ حسین کے شوہر عاطف محمد خان کو ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے 8 مارچ 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ وہ بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی خرد برد اور مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث پائے گئے تھے۔

یہ کیس سوشل میڈیا پر الزامات اور قانونی کارروائی کے حوالے سے ایک بڑی مثال بن سکتا ہے، جس میں بغیر تصدیق کے کسی پر الزام لگانے کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں