بنگلور کے ایک شہری نے فلم سے قبل ضرورت سے زیادہ اشتہارات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینما ہال کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس کے نتیجے میں عدالت نے اسے 230 ڈالر (تقریباً 75 ہزار پاکستانی روپے) بطور زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا۔
تفصیلات کے مطابق 31 سالہ ابھیشیک نامی شخص نے ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن میں یہ مقدمہ اس وقت دائر کیا جب وہ بنگلور کے معروف پی وی آر ملٹی پلیکس میں فلم دیکھنے گیا تھا۔ شہری نے مؤقف اختیار کیا کہ جس فلم کا مقررہ اختتام شام 6:30 بجے ہونا تھا، وہ طویل اشتہارات کے باعث شام 7 بجے ختم ہوئی، جس کی وجہ سے وہ اپنی دیگر مصروفیات کو بروقت مکمل نہ کر سکا۔
مدعی کے مطابق فلم سے قبل 17 اشتہارات اور 2 عوامی فلاحی پیغامات دکھائے گئے، جو غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتے ہیں۔ مقدمے میں شہری نے سینما انتظامیہ سے ہرجانے کے طور پر معقول زرتلافی، ذہنی کوفت کے بدلے 57 ڈالر اور قانونی اخراجات کی مد میں 115 ڈالرز کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
عدالتی کارروائی کے بعد کمیشن نے شہری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے سینما انتظامیہ کو 230 ڈالرز ہرجانے اور 92 ڈالرز قانونی اخراجات کی مد میں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کو صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔