شمالی کوریا نے بائنانس سے اربوں ڈالر کی چوری کا امریکی الزام مسترد کر دیا، سیاسی اشتعال انگیزی قرار

شمالی کوریا نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور سنگین سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

کم یو جونگ نے شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کو دیے گئے بیان میں کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں ہونے والے سائبر جرائم کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہرا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا یہ رویہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے گزشتہ ہفتے بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری کا ذمہ دار شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا تھا۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ شمالی کوریا مبینہ طور پر ایسی چوریوں سے حاصل ہونے والی رقوم اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر خرچ کرتا ہے، تاہم پیانگ یانگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

دوسری جانب بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے کہا ہے کہ سائبر حملے کے بعد صارفین کی جانب سے رقوم نکالنے کا غیر معمولی رجحان اب معمول پر آ گیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی مالی حالت مضبوط ہے اور متاثرہ ڈیجیٹل ٹوکنز میں سے 95 فیصد کی کمی پوری کی جا چکی ہے۔ پیر تک صارفین بائنانس سے مجموعی طور پر 4.72 ارب ڈالر کی خالص رقم نکال چکے تھے۔

بلاک چین تجزیاتی کمپنی ایلیپٹک کے اندازوں کے مطابق رواں سال شمالی کوریا سے منسوب کرپٹو کرنسی چوریوں کی مالیت 7.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی الزامات کے بعد شمالی کوریا کی فوری تردید ممکنہ نئی اقتصادی پابندیوں کے خدشات سے بھی متعلق ہو سکتی ہے۔ کم یو جونگ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا امریکی رویے کے تناظر میں بعض معاملات پر دوبارہ غور کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں