بائنانس سے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے چوری، شمالی کوریا کے ہیکرز پر شبہ

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنی ہے، جس میں تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کیے گئے۔ یہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے بتایا ہے کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے۔

بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہوا، جس کے ذریعے حملہ آور کو غیر مجاز طور پر ڈیجیٹل اثاثے منتقل کرنے کا موقع ملا۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صارفین کے نقصانات پورے کیے جائیں گے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، کرپٹو تجزیاتی کمپنیوں ٹی آر ایم لیبز اور چین اینالیسس نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ سے جوڑا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ حملے کی کئی خصوصیات ماضی میں شمالی کوریا سے منسلک سائبر کارروائیوں سے مماثلت رکھتی ہیں، تاہم حملہ آوروں کی شناخت کی حتمی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

ٹی آر ایم لیبز کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 ارب 36 کروڑ ڈالر کے اثاثے بائنانس کے مختلف ڈیجیٹل والیٹس سے منتقل کیے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ چوری شدہ اثاثوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی حملہ آور کے کنٹرول میں ہے، جس کی تلاش اور واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یہ حملہ فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ سے ہونے والی ڈیڑھ ارب ڈالر کی چوری سے بھی کہیں بڑا ہے۔ اس واقعے کے بعد کرپٹو ایکسچینجز کی سکیورٹی اور صارفین کے ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔

بائنانس نے کہا ہے کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ بائنانس ڈاٹ یو ایس نے واضح کیا ہے کہ اس کا امریکی پلیٹ فارم متاثر نہیں ہوا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حملے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں