وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سینیٹر احد چیمہ نے ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے عوام دوست فارمولا تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب جواز کے بغیر دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو زیرِ التوا قیمتوں کے معاملات پر کارروائی تیز کرنے اور موجودہ نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
احد چیمہ نے 26 اکتوبر کو اسلام آباد میں ڈریپ سے متعلق اجلاس کی صدارت کی، جس میں ادویات کی قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار اور زیرِ التوا درخواستوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ قیمتوں سے متعلق زیرِ التوا معاملات کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان معاملات کو مزید کارروائی کے لیے آگے بڑھایا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ تین اقسام کے وائرس سے تحفظ فراہم کرنے والی فلو ویکسین مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ حکام کے مطابق اس ویکسین سے متعلق قیمتوں میں خصوصی رعایت کے معاملے کو واپس لے لیا گیا ہے، کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔
وزیر اقتصادی امور نے تجویز دی کہ ادویات کی قیمتوں کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی ڈیٹا بیس کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ان کے مطابق دیگر ممالک میں ادویات کی قیمتوں کا موازنہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، تاہم درست فیصلوں کے لیے آزادانہ جانچ اور نگرانی کا نظام بھی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قیمتوں کا فارمولا مریضوں کے مفاد کو ترجیح دے اور ادویات کے درآمد کنندگان یا دواساز کمپنیوں کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔
دوسری جانب دواساز صنعت کے نمائندوں نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات کرتے وقت صنعت کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ادویات کو سستا رکھنے کے ساتھ ان کی مسلسل دستیابی بھی ضروری ہے، کیونکہ خام مال، پیکنگ اور توانائی کے اخراجات میں اضافے سے مقامی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت کے سامنے اب بنیادی چیلنج یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکتے ہوئے مریضوں کے لیے ضروری دواؤں کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے۔