جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جنگی دستے تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم خطے میں بحری نگرانی کے لیے طیارہ بھیجنے سمیت مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وی سونگ لاک نے جمعرات، 29 اکتوبر کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ سیئول آبنائے ہرمز میں ممکنہ کردار کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہا ہے۔
وی سونگ لاک نے کہا کہ حکومت کے زیرِ غور تجاویز میں بحری نگرانی کے طیارے کی ممکنہ تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم کسی جنگی مشن کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا آپشن زیرِ غور نہیں۔ ان کے مطابق یہ مؤقف صدر لی جے میونگ کے پہلے سے اعلان کردہ فیصلے کے مطابق ہے۔
اس سے قبل بھی جنوبی کوریا کی حکومت آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کرتی رہی ہے۔ ستمبر میں جنوبی کوریا نے خطے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک جائزہ ٹیم متحدہ عرب امارات بھیجی تھی، تاہم وزارتِ دفاع نے واضح کیا تھا کہ اس اقدام کا مطلب فوجی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس راستے سے بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے جنوبی کوریا سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔