چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی تنازع، علی بابا نے امریکی عدالت میں اہم قانونی کامیابی حاصل کر لی

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے متعلق بعض کاروباری پابندیوں پر عارضی روک لگا دی ہے۔ تاہم کمپنی کا نام چینی فوج سے مبینہ تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی امریکی فہرست میں بدستور موجود ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر 26 اکتوبر کو امریکی عدالت نے حکم دیا کہ ایسی کمپنیوں کو صرف اس بنیاد پر پینٹاگون کے ٹھیکوں سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان لابنگ اداروں کے ساتھ کام کرتی ہیں جو علی بابا کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔

پینٹاگون نے رواں سال جون میں علی بابا کو ان چینی کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن پر چین کی فوج کی مدد کرنے کا الزام ہے۔ اس فہرست میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی اور سرچ انجن بائیڈو سمیت دیگر چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

علی بابا نے امریکی حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے فوج کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کی مصنوعات اور خدمات کا تعلق آن لائن تجارت، سامان کی ترسیل اور کاروباری ٹیکنالوجی سے ہے، نہ کہ فوجی یا انٹیلی جنس سرگرمیوں سے۔

امریکی عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد علی بابا دوبارہ ایسے امریکی لابنگ اداروں کی خدمات حاصل کر سکے گی جو پینٹاگون کے ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ اس سے کمپنی کو امریکی حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے میں سہولت ملے گی۔

تاہم عدالتی حکم کا مطلب علی بابا کو امریکی بلیک لسٹ سے نکالنا نہیں ہے۔ پینٹاگون کی فہرست میں شامل کمپنیوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ 2027 سے ان کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات بالواسطہ طور پر خریدنے پر بھی مزید پابندیاں نافذ ہونا ہیں۔

علی بابا کے علاوہ چینی کمپنی بی وائی ڈی، ڈرون بنانے والی کمپنی ڈی جے آئی اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی ووکسی ایپ ٹیک بھی امریکی محکمہ دفاع کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کر چکی ہیں۔ علی بابا کی جانب سے اپنا نام پینٹاگون کی فہرست سے نکلوانے کی قانونی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں