پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت، نئی دوا سے موت کا خطرہ 44 فیصد کم

امریکہ میں سائنس دانوں نے پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک مخصوص قسم کے علاج کے لیے نئی تجرباتی دوا کے کامیاب نتائج پیش کیے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ڈیواریسب (Divarasib) نامی دوا استعمال کرنے والے مریضوں میں موجودہ علاج کے مقابلے میں موت کا خطرہ 44 فیصد کم پایا گیا۔

امریکی ادارے ایم ڈی اینڈرسن کینسر سینٹر کے مطابق اس تحقیق میں 26 ممالک کے 151 طبی مراکز سے تعلق رکھنے والے 338 مریض شامل تھے۔ ان تمام مریضوں کو پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک مخصوص قسم لاحق تھی، جسے KRAS G12C جینیاتی تبدیلی سے منسلک کینسر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مریض تھے جن کی بیماری پہلے علاج کے باوجود بڑھ چکی تھی۔

تحقیق میں نئی دوا لینے والے مریضوں کی اوسط مدتِ بقا تقریباً 17.7 ماہ رہی، جبکہ پہلے سے دستیاب ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں یہ مدت 12 ماہ تھی۔ نئی دوا سے کینسر کے مزید پھیلنے یا موت کا مجموعی خطرہ بھی 42 فیصد کم پایا گیا۔

محققین کے مطابق نئی دوا استعمال کرنے والے تقریباً 58 فیصد مریضوں میں علاج کے مثبت نتائج سامنے آئے، جبکہ موجودہ ادویات لینے والوں میں یہ شرح تقریباً 32 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ نئی دوا لینے والے مریضوں میں علاج سے متعلق شدید مضر اثرات بھی نسبتاً کم دیکھے گئے۔

یہ نتائج اکتوبر 2026 میں یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی کانفرنس میں پیش کیے گئے اور معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق پھیپھڑوں کے مخصوص کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت ہے، تاہم ڈیواریسب ابھی تجرباتی دوا ہے اور اسے عام استعمال کے لیے دستیاب علاج سمجھنا درست نہیں۔ دوا ساز کمپنی روشے نے کہا ہے کہ وہ اس علاج کی منظوری کے لیے متعلقہ طبی حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں