برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی بار ملک کا صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تاہم ان کے مخالف امیدوار فلاویو بولسونارو نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انتخابات کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
برازیل کے الیکشن کمیشن کے سرکاری نتائج کے مطابق لولا ڈی سلوا نے 51.79 فیصد جبکہ ان کے حریف فلاویو بولسونارو نے 48.21 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ لولا کو اپنے مخالف امیدوار کے مقابلے میں تقریباً 44 لاکھ زیادہ ووٹ ملے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انتخابات کے دوران بعض علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی مشکلات اور شدید بارشوں کے باعث ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھایا گیا تھا۔ فلاویو بولسونارو نے اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں مداخلت کی گئی ہے۔ انہوں نے انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انتخابی کامیابی کے بعد لولا ڈی سلوا کے ہزاروں حامی ساؤ پاؤلو اور ریو ڈی جنیرو کی سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔ اپنے خطاب میں لولا نے کہا کہ عوام نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے برازیل کی خودمختاری کے دفاع اور تمام شہریوں کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
لولا ڈی سلوا اس سے قبل 2003، 2006 اور 2022 میں بھی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں۔ دوسری جانب فلاویو بولسونارو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں۔ لولا کو اپنی نئی مدت میں مہنگائی، عوامی تحفظ اور سیاسی اختلافات جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی لولا ڈی سلوا کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔ ایوان صدر کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور برازیل کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور بین الاقوامی سطح پر تعاون مزید مضبوط ہوگا۔