سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج تہران جائیں گے، سعودی اور ایرانی حکام کی تصدیق

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام پیر کو ایران کے دارالحکومت تہران جائیں گے۔ ایک ایرانی اور ایک سعودی عہدیدار نے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا کہ یہ دورہ مغربی ایشیا میں علاقائی ممالک کی اپنی سلامتی کے تصور پر عمل درآمد کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آنے والوں میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل ہوں گے۔

سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری راید کریملی نے بھی ایکس پر دورے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کے ان تینوں رکن ممالک کے حکام ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی سے ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے اسے کشیدگی کم کرنے، مکالمے اور سفارتی حل کی کوششوں کا حصہ قرار دیا، جو قطر اور پاکستان کی ثالثی کی حمایت میں کی جا رہی ہیں۔

یہ سعودی عرب کے جنگ میں مزید الجھنے کے بعد ایران اور مکہ دفاعی اتحاد کے تمام رکن ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا۔ اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے تاحال اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت آئی ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیان بازی تلخ ہو گئی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے بھی ایران گئے تھے، جہاں ایرانی قیادت نے کہا تھا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے امریکہ کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا، اور ایران کی سات نکاتی تجویز کی قبولیت نئے مذاکرات کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ فروری کے آخر سے جنگ کی لپیٹ میں ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے۔ اپریل کی جنگ بندی کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش جاری ہے، جبکہ جون کے معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں