میٹا کی مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، سہ ماہی نتائج میں آمدنی اور اخراجات پر سرمایہ کاروں کی نظریں

فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کی مصنوعی ذہانت پر بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور نئے اے آئی اسسٹنٹ ’’میوز‘‘ کی مقبولیت سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ کمپنی بدھ کو رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کرے گی، جن سے اندازہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت پر بھاری اخراجات اس کی آمدنی اور منافع کو کس حد تک متاثر کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ مصنوعی ذہانت کو کمپنی کی آمدنی کا ایک نیا ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اشتہارات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے کاروباری اداروں اور عام صارفین کے لیے کئی اے آئی مصنوعات متعارف کرائی ہیں، جن میں سبسکرپشن پر دستیاب میوز پرسنل اسسٹنٹ بھی شامل ہے۔ کمپنی کا مقابلہ اس شعبے میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق، میٹا کے نئے اے آئی ماڈلز اور میوز اسسٹنٹ کو ملنے والے مثبت ردِعمل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے، تاہم ان منصوبوں پر آنے والی لاگت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے اندازوں کے مطابق، جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں کمپنی کے سرمایہ جاتی اخراجات دگنے سے زیادہ ہو کر تقریباً 41 ارب 68 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹنگ نظام کی توسیع سے متعلق ہے۔

وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ میٹا کی سہ ماہی آمدنی تقریباً 23.8 فیصد اضافے کے ساتھ 63 ارب 42 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم بڑھتے اخراجات کے باعث خالص منافع تقریباً 17 فیصد کم ہو کر 15 ارب 44 کروڑ ڈالر رہنے کا اندازہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کمپنی کو اس سہ ماہی میں تقریباً 8 ارب 52 کروڑ ڈالر کے منفی فری کیش فلو کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب گوگل اور ٹک ٹاک سے بڑھتا مقابلہ اشتہارات کے شعبے میں میٹا کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔

بینک آف امریکہ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، میٹا کی حالیہ اے آئی مصنوعات نے کمپنی کی حکمتِ عملی پر اعتماد مضبوط کیا ہے اور اشتہارات کی طلب بھی بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ مورگن اسٹینلے نے بھی بڑھتے اخراجات کے باوجود 2027 اور 2028 کے لیے کمپنی کی آمدنی کے اندازوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم سرمایہ کار بدھ کو جاری ہونے والے نتائج میں خاص طور پر یہ دیکھیں گے کہ میٹا کی مصنوعی ذہانت پر بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کب اور کس حد تک اضافی منافع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں