’مٹی دے باوے‘ محبت کی کہانی یا معاشرتی تقسیم پر بڑا سوال؟ 

ایک انسان کی ذات اس کی پیدائش کے وقت طے ہو جاتی ہے، لیکن کیا اس کی عزت، اس کی محبت، اس کی شادی اور اس کا مستقبل بھی اسی وقت طے ہو جانا چاہیے؟

پاکستانی ڈرامہ ’’مٹی دے باوے‘‘ کی کہانی ہمیں ایک ایسا سوال دیتی ہے جس کا جواب شاید ہم سب جانتے ہیں، لیکن اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس ڈرامے کے دو مرکزی کردار ہیں ، بالا اور بلو۔ بالا بِلّو سے محبت کرتا ہے، شروع میں بلو بھی اس سے ملاقاتیں کرتی ، اس کے ساتھ بیٹھ کر میٹھی میٹھی باتیں کرتی اور آخر جب بات شادی آتی ہے تو بِلّو اسے یہ کہہ کر رد کر دیتی ہے کہ اس کی ذات اس کے مرتبے سے کم ہے، اس لیے وہ اس کے ساتھ شادی کے قابل نہیں۔ یہ صرف ایک محبت کی ناکامی نہیں، بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس میں انسان کی قدر اس کے کردار سے نہیں، بلکہ اس کی پیدائشی شناخت سے طے کی جاتی ہے۔

بالا بھی یہ بات تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ کم ذات ہے اور لوگ اس کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے اور وہ کبھی بھی اپنی اس ذات کے ساتھ اچھی زندگی نہیں گزار سکے گا۔ وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایک نئے شہر میں ہجرت کر لیتا ہے اور وہاں جاکر ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے۔ وہ کاروبار کرتا ہے، شادی کرتا ہے اور برسوں تک اپنی ذات ظاہر کیے بغیر زندگی گزارتا ہے۔ لیکن جب سالوں گزرنے کے بعد بالا کا بھائی جوان ہوتا اور وہ ایک لڑکی کو پسند کرتا، بالا اسکے رشتے کے لیے لڑکی کے گھر پہنچتا ہے ،لیکن وہ لڑکی بلو کی نند ہوتی ہے۔ سب بالے سے بہت عزت سے بات کرتے اور رشتے کے لیے حامی بھی بھرنے والے ہوتے ہیں کہ بلو، ایک مرتبہ پھر بالے کو اس کی زات یاد کرواتی اور سب کو اس کی حقیقت بتا دیتی ۔۔۔جبکہ پہلے والی بلو اور اب والی بلو میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ اب والی بلو عبادت گزار ہے، پردہ کرتی ہے ، لو گ اس کو اللہ والی کہتے ، اپنے مختلف مسائل کے حل اور دعا کے لیے بلو کے پاس آتے ہیں لیکن یہ سب بھی بلو کے اندرسے اس معاشرے کی تلخ حقیقت کو نہیں نکال سکا اور ایسا ہمارے معاشرے میں اکثر ہوتا ہے ، ہم تمام علم رکھنے کے باوجود دوسرے انسانوں کو ہمیشہ خود سے کمتر سمجھتے ہیں کیونکہ یہ چیز بچپن سے دھیانی ، بے دھیانی میں مختلف عوامل کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں ڈال دی جاتی ہے ۔ جب بلو اپنے سسرال میں اس کی ذات بتاتی ہے، تو برسوں کی محنت، اس کی ازدواجی زندگی اور اس کی سماجی حیثیت ایک لمحے میں بے معنی ہو جاتی ہے۔ اچانک سب کے رویے بدل جاتے ہیں، اور بالے کو دھکے مار کر، زلیل کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اس کی ذات کو ایک مرتبہ پھر اس کے کردار سے زیادہ اہم بنا دیا جاتا ہے۔

یہاں سماجی نفسیات کا ایک اہم نظریہ، Social Identity Theory، اس منظر کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان اپنی شناخت کا ایک حصہ ان گروہوں سے حاصل کرتا ہے جن سے وہ تعلق رکھتا ہے، مثلاً خاندان، برادری اور ذات۔ یہ گروہی وابستگی انسان کو یہ احساس دیتی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کا تعلق کن لوگوں سے ہے۔

لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی شناخت سے محبت کرنے کے بجائے اسے دوسروں سے برتر ہونے کی دلیل بنا لیتا ہے۔ پھر ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ اپنے گروہ کو عزت دار اور دوسرے کو کمتر سمجھا جانے لگتا ہے۔ بالا کی کہانی میں بھی یہی سوال سامنے آتا ہے: اگر اس کی ذات اس کے کردار، کاروبار اور خاندانی زندگی کو تبدیل نہیں کرتی، تو پھر صرف اس کی ذات معلوم ہونے پر لوگوں کا رویہ کیوں بدل جاتا ہے؟

اس سے بھی زیادہ تلخ بات یہ ہے کہ بالا اپنی شناخت چھپا کر جس زندگی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، وہ بھی اس معاشرتی تعصب کی قیمت ادا کرتی ہے۔ یہاں سوال بالا کے شناخت چھپانے کے فیصلے کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کسی انسان کو اپنی پیدائشی شناخت بتانے سے خوف کیوں محسوس ہوتا ہے؟ اگر معاشرہ اسے قبول کرنے کے بجائے سزا دے، تو یہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ معاشرتی رویوں کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

پھر کہانی ایک اور موڑ لیتی ہے۔ بالا، بِلّو کے ماضی کو اس کے سسرال کے سامنے لاتا ہے۔ ایک ماضی کا لیبل اس کی موجودہ زندگی پر غالب آ جاتا ہے، حالانکہ وہ شادی کے بعد اپنی زندگی بدل چکی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اسے اس کی تبدیلی کے بجائے ماضی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے گھر چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

یہاں Sociology کی Labeling Theory اہم ہو جاتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب معاشرہ کسی شخص کو ایک مخصوص لیبل دے دیتا ہے، تو اکثر لوگ اس کی پوری شخصیت کو اسی ایک شناخت کے ذریعے دیکھنے لگتے ہیں۔ انسان نے کیا سیکھا، کیسے بدلا اور آج وہ کون ہے، ان سوالوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ بالا کی ذات اور بِلّو کے ماضی، دونوں کو دوسروں کے فیصلوں میں ایسے لیبل بنا دیا جاتا ہے جن کے سامنے ان کی موجودہ زندگی اور کردار کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

لیکن اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب ذات پات کا تنازعہ دو افراد سے نکل کر پورے خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بِلّو، بالا کی بہن کی شادی میں اس کی ذات ظاہر کر دیتی ہے اور نئی نویلی دلہن کو محض اس کی خاندانی شناخت کی وجہ سے طلاق دے دی جاتی ہے۔ بالا کے سسرال والے بھی اس سے تعلق ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کی بیوی اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے لیے اپنے خاندان سے تعلق توڑنے کا فیصلہ کرتی ہے۔

ذرا غور کریں، بالا اور بِلّو کے درمیان شروع ہونے والی نفرت کی قیمت وہ لوگ ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس تنازعے کو جنم بھی نہیں دیا تھا۔ ایک بہن کی شادی چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے، ایک بیوی کو اپنے خاندان اور شوہر میں سے انتخاب کرنا پڑتا ہے، اور خاندانوں کے درمیان انتقام بڑھتے بڑھتے جانی نقصان تک پہنچ جاتا ہے۔

یہاں ذات پات صرف امتیاز نہیں رہتی؛ یہ ایک ایسے نظام کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں خاندان کی نام نہاد عزت، انسان کی زندگی اور خوشی سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اور اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی تاریخی جڑوں پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ برصغیر میں ذات پات کی مختلف شکلیں صدیوں کے دوران تشکیل پائیں، جن میں پیدائش، خاندانی نسب اور پیشے کو سماجی مرتبے سے جوڑا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ تقسیم صرف سماجی شناخت تک محدود نہیں رہی، بلکہ بعض معاشروں میں شادی، تعلقات اور مواقع پر بھی اثر انداز ہونے لگی۔

لیکن اسلامی تعلیمات ہمیں ایک مختلف معیار دیتی ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات، آیت 13 میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں کو قوموں اور قبیلوں میں ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے بنایا گیا، جبکہ اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔

یعنی شناخت موجود ہو سکتی ہے، لیکن شناخت کی بنیاد پر کسی دوسرے انسان کو کمتر سمجھنا برتری کا معیار نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی شخص اپنی ذات کی بنیاد پر دوسرے انسان کو شادی، عزت یا معاشرتی قبولیت کے قابل نہیں سمجھتا، تو اسے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی انسان کے کردار کو اہمیت دے رہا ہے یا ایک سماجی درجہ بندی کو؟

’’مٹی دے باوے‘‘ ہمیں یہی دکھاتا ہے کہ تعصب کا آغاز شاید ایک جملے سے ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج ایک خاندان تک محدود نہیں رہتے۔ بالا کی ذات، بِلّو کا ماضی، بہن کی ٹوٹی ہوئی شادی اور دو خاندانوں کا انتقام، سب ایک ہی سوال کے مختلف پہلو ہیں: ہم انسان کو اس کی حقیقت سے پرکھتے ہیں یا اس لیبل سے جو معاشرہ اس پر لگا دیتا ہے؟

اور شاید اس کہانی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جب انسان اپنی عزت کے دفاع میں دوسروں کی عزت چھیننے لگے، تو انصاف کی جگہ انتقام لے لیتا ہے۔ ایک غلطی کا جواب دوسری غلطی سے دیا جاتا ہے، اور آخرکار وہ لوگ بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں جن کا قصور صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ان خاندانوں میں پیدا ہوئے جن کے درمیان نفرت موجود ہے۔

اس لیے اصل معاملہ یہ نہیں کہ بالا کی ذات کیا تھی یا بِلّو کا ماضی کیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا کسی انسان کی پیدائشی شناخت یا ماضی اس کی پوری شخصیت سے بڑا ہو سکتا ہے؟ اور اگر ہم انسان کی برابری پر یقین رکھتے ہیں، تو کیا یہ برابری صرف ہماری باتوں میں ہے یا ہمارے رشتوں، شادیوں اور عملی فیصلوں میں بھی؟

کیونکہ جب تک ہم اپنی سوچ میں انسان کو ذات، خاندان اور ماضی کے لیبل سے الگ دیکھنا نہیں سیکھیں گے، ’’مٹی دے باوے‘‘ جیسی کہانیاں صرف ڈراموں میں نہیں، ہماری حقیقی زندگیوں میں بھی دہرائی جاتی رہیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں