مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد نذرِ آتش، دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے درج

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلس-طینی گاؤں مخمّاس میں ایک مسجد کو مبینہ طور پر اس-ر-ائیلی آبادکاروں نے آگ لگا دی، جبکہ مسجد کی بیرونی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی لکھ دیے گئے۔ واقعے کے دوران ایک گاڑی کو بھی آگ لگائے جانے کی اطلاع ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی نصف شب کے کچھ دیر بعد پیش آیا۔ مقامی فلس-طینی رہائشی عطا کنعان نے بتایا کہ وہ مسجد سے تقریباً 50 میٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں۔ انہیں شیشے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی تو وہ فوراً مسجد پہنچے، جہاں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔

عطا کنعان کے مطابق مقامی نوجوان آگ بجھانے کے آلات لے کر موقع پر پہنچے اور فائر بریگیڈ کو بھی اطلاع دی۔ ان کی کوششوں سے آگ پر قابو پانے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے میں مدد ملی، ورنہ خدشہ تھا کہ آگ پوری مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔

مسجد کی بیرونی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی درج کیے گئے تھے۔ ان میں ایک عبارت کا مفہوم تھا: ’’صرف اس لیے کہ ہم خاموش ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سو رہے ہیں۔‘‘

اس-ر-ائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ مسجد پر نعروں کے اندراج، آگ لگانے اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات ملنے کے بعد فوجی اہلکار مخمّاس روانہ کیے گئے۔ فوج کے مطابق تاحال کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

عطا کنعان کا کہنا تھا کہ آبادکاروں کی کارروائیوں کے خدشے کے باعث گاؤں کے رہائشی گزشتہ چند ہفتوں سے رات کے وقت پہرہ دے رہے ہیں۔ انہیں خاص طور پر گاؤں کے کناروں پر واقع گھروں کو آگ لگائے جانے کا اندیشہ ہے۔

واقعے نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلس-طینی آبادیوں اور مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں