مصر میں ازبکستان کی سیاحت متعارف کرانے کی مہم، پہاڑوں، برف اور روایتی کھانوں پر خصوصی توجہ

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ازبکستان کی سیاحتی کشش کو مصری مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ازبکستان کو مذہبی سیاحت کے ساتھ ساتھ قدرتی مناظر، برف پوش پہاڑوں، روایتی کھانوں اور دیہی سیاحت کے لیے بھی ایک پُرکشش منزل کے طور پر پیش کیا گیا۔

’’عمرہ پلس سیاحت: ازبکستان اور مصر کے درمیان سیاحتی تعاون کی حکمتِ عملی‘‘ کے عنوان سے ہونے والی اس تقریب کا اہتمام عمرہ پلس انٹرنیشنل ٹورازم ایسوسی ایشن، ازبکستان کی سیاحت کمیٹی اور مصر میں ازبکستان کے سفارت خانے نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس میں مصری سرکاری اداروں، ٹور آپریٹرز، سیاحتی ایجنسیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ازبکستان کو صرف مذہبی زیارت کے لیے نہیں بلکہ موسمِ سرما کی تفریح، اسکیئنگ، قدرتی حسن، مقامی کھانوں اور روایتی دست کاری کے شوقین سیاحوں کے لیے بھی متعارف کرایا جائے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی سیاحتی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری بڑھانے اور ازبکستان آنے والے مصری سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

’’ازبکستان: پہاڑ، برف اور ذائقے‘‘ کے عنوان سے ہونے والی پریزنٹیشن میں موسمِ سرما کی سیاحت اور اسکیئنگ کے مواقع کے علاوہ زامین نیشنل پارک، عیدر آرناسائے جھیلوں کے نظام اور قشقدرّیا و سرخان دریا کے قدرتی مقامات کو نمایاں کیا گیا۔ ازبکستان کے روایتی کھانوں اور دست کاری کو بھی ملک کی ثقافتی شناخت اور سیاحتی کشش کے اہم حصوں کے طور پر پیش کیا گیا۔

مصری ٹور آپریٹرز کو سیاحت کے دو مجوزہ پیکیجز بھی متعارف کرائے گئے۔ آٹھ روزہ ’’پہاڑ، ذائقے اور ورثہ‘‘ کے سفر میں تاشقند، چمگان، چارواک، وادیٔ فرغانہ اور سمرقند شامل ہیں، جبکہ سات روزہ ’’قدرت اور ذائقے‘‘ کے پیکیج میں امیرسوئے، زامین، عیدرکول اور سمرقند کی سیر کی تجویز دی گئی ہے۔

تقریب کے اختتام پر مصری ٹور آپریٹرز اور صحافیوں کے لیے ازبکستان کے تعارفی دورے منعقد کرنے، مشترکہ تشہیری سرگرمیوں اور کاروباری ملاقاتوں کا اہتمام کرنے اور عربی زبان میں سیاحتی معلوماتی مواد تیار کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

اس موقع پر مصری ٹورازم فیڈریشن، ڈحاب گروپ، بیسٹ کنٹرول اور عمرہ پلس انٹرنیشنل ٹورازم ایسوسی ایشن نے ازبکستان کے لیے مصری سیاحوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون کو وسعت دینے اور ازبکستان کی سیاحتی منڈی تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں