بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، عدالت کا تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم

وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے، تاہم درخواست پر فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ ’’آرڈر کا انتظار کریں‘‘، جبکہ بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے نکات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر سلمان صفدر نے بشریٰ بی بی کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کے مقدمات میں عدالتیں عموماً نرمی کا پہلو مدنظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے نیب کے طرزِ عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے دوران متعدد مواقع پر التوا لیا گیا اور سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا گیا۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سزا سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست کا قانونی جواز موجود ہے۔ ان کے مطابق مقدمے میں زیادہ توجہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر مرکوز رہی، جبکہ بشریٰ بی بی کے معاملے کو بھی الگ سے دیکھا جانا چاہیے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹ پر بحث نہ کی جائے، کیونکہ عدالت کے سامنے فی الحال سزا معطلی کی درخواست زیرِ سماعت ہے۔ بینچ کے رکن جسٹس باقی نجفی نے بھی مرکزی اپیل کی سماعت کے لیے مقرر ہونے کی تعداد سے متعلق سوال کیا سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے نکات جمع کرانے کا حکم دیا۔ اب درخواست پر عدالت کے حکم اور فیصلے کا انتظار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں