ناسا کے خلائی روبوٹ پرسیورینس کا مریخ پر نیا ریکارڈ، 45 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر لیا

امریکی خلائی ادارے ناسا کے روبوٹک مشن پرسیورینس نے مریخ کی سطح پر 45.22 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارے یا چاند پر سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے والی گاڑی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ناسا کے ہی روبوٹک مشن اپرچیونٹی کے پاس تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، چھ پہیوں والے گاڑی کے حجم کے اس روبوٹ نے 2021 میں مریخ پر پہنچنے کے تقریباً ساڑھے پانچ سال بعد یہ سنگ میل عبور کیا۔ ناسا کے مطابق، پرسیورینس نے 11 اکتوبر 2026 کو 45.22 کلومیٹر کا فاصلہ مکمل کیا، جبکہ اپرچیونٹی نے 2004 سے 2018 کے درمیان مریخ پر 45.16 کلومیٹر سفر کیا تھا۔

پرسیورینس اس وقت مریخ کے جیزیرو کریٹر کے علاقے میں تحقیق کر رہا ہے، جہاں سائنس دانوں کے خیال میں اربوں سال پہلے پانی موجود تھا اور ایک جھیل بھی ہوا کرتی تھی۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ایسے شواہد تلاش کرنا ہے جو یہ واضح کر سکیں کہ کیا مریخ پر کبھی خردبینی زندگی کے لیے موزوں حالات موجود تھے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے پراجیکٹ منیجر اسٹیون لی نے رائٹرز کو بتایا کہ پرسیورینس کے آلات اور تکنیکی نظام بہترین حالت میں ہیں۔ ان کے مطابق، حالیہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ روبوٹ 2030 کی دہائی تک، بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کامیابی میں پرسیورینس کے خودکار نیویگیشن نظام ’’آٹو نیو‘‘ (AutoNav) کا اہم کردار ہے۔ ناسا کے مطابق، روبوٹ نے اپنا 90 فیصد سے زیادہ سفر انسانی مداخلت کے بغیر طے کیا ہے۔ یہ نظام سامنے موجود راستے کی تصاویر لیتا ہے، زمین کا سہ جہتی نقشہ تیار کرتا ہے اور رکاوٹوں سے بچتے ہوئے محفوظ راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے مریخ کی دشوار گزار سطح پر تحقیق کی رفتار بہتر بنائی ہے۔

پرسیورینس کی اہم سائنسی کامیابیوں میں ایک ایسی قدیم چٹان کی دریافت بھی شامل ہے جس میں ممکنہ طور پر ماضی کی خردبینی زندگی سے متعلق آثار موجود ہو سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، یہ چٹان تقریباً 3.2 سے 3.8 ارب سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ تاہم، ان شواہد سے مریخ پر زندگی کی موجودگی کی قطعی تصدیق نہیں ہوتی اور مزید تحقیق ضروری ہے۔

ناسا نے پرسیورینس کے مشن میں توسیع کرتے ہوئے اسے تقریباً 2028 کے اختتام تک جیزیرو کریٹر کے کناروں پر تحقیق جاری رکھنے کی منظوری دی ہے۔ سائنس دان خاص طور پر ان علاقوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جہاں ماضی میں گرم زیرِ زمین پانی موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں، کیونکہ ایسے ماحول میں زندگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہو سکتے تھے۔

مشن کے ماہرین پرسیورینس کے نظام کو مزید طویل سفر کے لیے بھی آزما رہے ہیں۔ ان کا ہدف روبوٹ کی کم از کم 100 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔ ناسا کے مطابق، اس کا جوہری توانائی سے چلنے والا بجلی کا نظام بھی توقعات کے مطابق کام کر رہا ہے اور اس میں مزید کئی سال تک مشن جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں