صحافی اور سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے لے گئے۔
فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا کہ رات وہ سو رہی تھیں جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔
ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ’چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘
فرح کا کہنا ہے کہ اُن افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ’اقرار کو باہر نکالو۔‘
فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔
فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔
واضح رہے کہ ’این سی سی آئی اے‘ پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا مخفف ہے۔
فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ جب ان کے شوہر نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو گھر آنے والے افراد نے انھیں پکڑ لیا اور ’اغوا کر کے لے گئے۔‘
اہل خانہ کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔
ان کے بقول پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی آفس کی جانب سے انٹرنیٹ بند ہے۔
فرح اقرار کے مطابق مسلسل اصرار کے بعد پولیس نے ایک رسید پر تحریری طور پر درج کر دیا کہ ’انٹرنیٹ کی بندش کے باعث درخواست کو سسٹم میں ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔‘
فرح اقرار نے کہا کہ تا حال انھیں یہ معلوم نہیں کہ ’اقرار کہاں ہیں، انھیں کون اپنے ساتھ لے کر گیا اور وہ کس کی تحویل میں ہیں۔‘
ان کے مطابق اہلِ خانہ کے لیے یہ طے کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ ’گرفتاری کا معاملہ ہے یا اغوا کا، کیونکہ گھر آنے والے افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے اور انھوں نے اپنے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے۔‘