آسیب زدہ پاکستان

نعمتوں سے مالا مال، وسائل سے بھرپور، جذبوں سے سرشار اور بے شمار مواقع رکھنے والا وطنِ عزیز نہ جانے کیوں ایک ایسے حصار میں گھِرا دکھائی دیتا ہے جہاں ترقی اور خوشحالی کی بات اب ایک خواب سے زیادہ مذاق محسوس ہونے لگی ہے۔ آج ریڑھی بان سے لے کر کسان تک، مزدور سے لے کر تاجر تک، ملازم سے لے کر صنعت کار تک ایک عجیب بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ ہر شخص مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے۔ کسی کو روزگار کی فکر ہے، کسی کو بچوں کی تعلیم کی، کسی کو بجلی اور گیس کے بلوں کی، کسی کو کاروبار کے مستقبل کی اور کسی کو اپنی جمع پونجی کے تحفظ کی۔ معاشی دباؤ نے زندگی کی خوشیوں کو محدود کر دیا ہے۔ انسان جب مسلسل معاشی اضطراب میں مبتلا رہے تو اس کے اندر برداشت کم اور بے صبری زیادہ ہونے لگتی ہے۔ یہی کیفیت اب ہمارے اجتماعی رویوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہم ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کو شکست دینے میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی تقسیم نے معاشرتی رشتوں تک کو متاثر کیا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا معاشرے کو کمزور کر دیتا ہے۔ آج سیاسی وابستگی بعض اوقات رشتوں، دوستیوں اور سماجی تعلقات پر بھی غالب آتی دکھائی دیتی ہے۔ گلی، محلے، بازار، تعلیمی ادارے اور سوشل میڈیا، ہر جگہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی دوڑ ہے۔ سیاست کو خدمت اور پالیسی کے بجائے شناخت اور دشمنی کا میدان بنا دیا جائے تو قوم اپنی اجتماعی توانائی تعمیر کے بجائے باہمی کشمکش میں صرف کرنے لگتی ہے۔

ریاستی اداروں کی کمزوری اس بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔ جب ایک عام شہری کسی سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے پریشان ہو، جب فیصلے بروقت نہ ہوں، جب قانون سب کے لیے یکساں محسوس نہ ہو، جب اداروں کی کارکردگی شخصیات اور تعلقات سے متاثر ہونے لگے تو عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف اس کے ہتھیار، عمارتیں یا بجٹ نہیں ہوتے، بلکہ اس کے مضبوط، غیر جانب دار اور جواب دہ ادارے ہوتے ہیں۔ ادارے مضبوط ہوں تو حکومتیں بدلنے سے ریاست کا سفر نہیں رکتا، لیکن ادارے کمزور ہوں تو بہترین پالیسیاں بھی فائلوں اور بیانات سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ قرض بھی ہمارے قومی بحران کا ایک اہم حصہ ہے، مگر قرض بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ قرض کہاں استعمال ہوتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمی کیا ہے۔ اگر قرض ایسی سرمایہ کاری میں استعمال ہو جو روزگار پیدا کرے، برآمدات بڑھائے، توانائی کا نظام بہتر کرے، پیداوار میں اضافہ کرے اور ریاست کی آمدن بڑھائے تو وہ مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ پرانے قرضے اتارنے، جاری اخراجات پورے کرنے اور وقتی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہوتا رہے تو ملک ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں آج کی ضرورت کل کی مزید مشکل بن جاتی ہے۔ ہمیں قرض لینے سے زیادہ قرض کے استعمال کی سمت پر غور کرنا ہوگا۔

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا بھی ہے۔ حکومت بدلتی ہے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں، وزیر بدلتا ہے تو منصوبے بدل جاتے ہیں، سیاسی حالات تبدیل ہوتے ہیں تو معاشی فیصلے بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے ترقی کی، انہوں نے کئی شعبوں میں دہائیوں پر محیط قومی پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر رکھا۔ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، توانائی، برآمدات، آبادی، پانی اور ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جنہیں پانچ سالہ یا ایک حکومت کے منصوبے کے بجائے طویل المدت قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بڑے عہدے صرف اختیار نہیں، بڑی ذمہ داری بھی ہوتے ہیں۔ ریاستی منصب پر بیٹھنے والے شخص سے سیاسی وابستگی سے پہلے قابلیت، دیانت، تجربہ، فیصلہ سازی اور قومی مفاد کی سمجھ کی توقع ہونی چاہیے۔ اگر کسی اہم ادارے کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو اس شعبے کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ ہو تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں، پورے ادارے کا ہوتا ہے۔ ہمیں شخصیت پرستی سے نکل کر میرٹ اور اہلیت کو قومی اصول بنانا ہوگا۔ عہدے کسی کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں۔

اس بحران سے نکلنے کا بنیادی راستہ تعلیم ہے، مگر صرف ڈگریوں والی تعلیم نہیں بلکہ ایسی تعلیم جو انسان کو سوال کرنا، تحقیق کرنا، اختلاف برداشت کرنا، قانون کا احترام کرنا اور ذمہ داری نبھانا سکھائے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہوگی جو صرف ملازمت تلاش نہ کرے بلکہ روزگار پیدا کرنے کا ہنر بھی رکھتی ہو۔ ہمارے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آئی ٹی، زراعت، انجینئرنگ، ہنرمندی اور عالمی منڈیوں سے جوڑنا ہوگا۔ زراعت بھی پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کسان کو صرف فصل پیدا کرنے والا فرد سمجھنے کے بجائے اسے قومی معیشت کے اہم شراکت دار کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ریاست صرف حکومت کا نام نہیں، ریاست ہم سب سے مل کر بنتی ہے۔ ٹیکس چوری کرنے والا، قانون توڑنے والا، سفارش ڈھونڈنے والا، ملاوٹ کرنے والا، سرکاری وقت ضائع کرنے والا اور اپنے منصب کا غلط استعمال کرنے والا بھی اسی بحران کا حصہ بنتا ہے جس کا الزام ہم صرف حکمرانوں پر رکھتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ ایوانِ اقتدار سے شروع نہیں ہوتی؛ بعض اوقات قومیں اپنے رویے بدل کر اپنے مستقبل کا رخ تبدیل کرتی ہیں۔

آسیب زدہ پاکستان کا علاج کسی ایک شخصیت، جماعت یا حکومت کے پاس نہیں۔ اس کا علاج ایک مسلسل قومی کوشش میں ہے۔ ہمیں مایوسی کو حقیقت پسندی کا نام دینے کے بجائے مسائل کو تسلیم کرکے ان کے حل پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کسی آسیب کی وجہ سے نہیں رکا؛ اگر واقعی کوئی آسیب ہے تو وہ ہماری اپنی غلط ترجیحات، کمزور ادارے، باہمی نفرت، وقتی مفادات، قانون سے انحراف اور مستقبل کے بجائے حال کی سیاست میں پوشیدہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں