آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے سے ایک کروڑ 17 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو غذائی عدم تحفظ کا خطرہ، اقوام متحدہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے باعث رواں سال کے اختتام تک مزید ایک کروڑ 17 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ویمن‘ کے تازہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث سال کے اختتام تک مزید دو کروڑ 20 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یو این ویمن کے مطابق ان اضافی متاثرین میں خواتین اور لڑکیوں کا تناسب 53 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو تقریباً ایک کروڑ 17 لاکھ بنتا ہے۔

یہ تجزیہ 28 ممالک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں پہلے ہی تقریباً 20 کروڑ 80 لاکھ خواتین اور لڑکیاں غذائی عدم تحفظ یا غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔

یو این ویمن کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں خلل برقرار رہا تو پہلے سے غذائی مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کی تعداد میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں