تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کو مجوزہ کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دے دی، جسے جماعت اسلامی نے قبول کر لیا ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مشتمل وفد نے جمعے کو حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، جمہوری عمل، آئین کی بالادستی اور دیگر قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق ملاقات میں سیاسی استحکام، جمہوری روایات کے فروغ اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے سیاسی اور جمہوری قوتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر مل بیٹھ کر مشاورت کریں اور مسائل کا حل تلاش کریں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایک قومی ایجنڈے کی فوری ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس ایجنڈے میں امن و امان، معاشی صورتحال اور عوام کے حقوق جیسے معاملات شامل ہونے چاہییں، جن پر سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کی بھی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے آئین معطل یا موجودہ آئینی نظام متاثر ہو۔
انھوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات محض ملاقات یا ’فوٹو سیشن‘ تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ ان کا کوئی نتیجہ بھی سامنے آنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں تک رسائی سمیت تحریک انصاف کے مطالبات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان سے متعلق تحفظات کو دور کیا جانا چاہیے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انھیں مجوزہ کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، جمہوری عمل، آئین کی بالادستی اور قومی معاملات پر گفتگو کی گئی۔
اس سے قبل تحریک انصاف نے گزشتہ ماہ کثیر الجماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق کانفرنس میں امن و امان، معیشت، مہنگائی، سیاسی صورتحال اور نئے صوبوں سمیت مختلف معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی اپوزیشن کی مجوزہ کانفرنس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے، جبکہ رواں ہفتے تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق مجوزہ کثیر الجماعتی کانفرنس پی ٹی آئی کے چار اکتوبر کے احتجاج کے بعد منعقد کی جائے گی۔ اتحاد نے سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور کانفرنس کے ایجنڈے پر اتفاق رائے کے لیے چھ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے۔