ازبکستان کے تاریخی شہر بخارا کے قلب میں پکی ہوئی اینٹوں سے تعمیر ہونے والا ایک بلند مینار تقریباً نو صدیوں سے وقت کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرتے ہوئے کھڑا ہے۔ اسے دنیا مینارِ کلان کے نام سے جانتی ہے، تاہم تاریخ کے ایک تاریک باب کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’ٹاور آف ڈیتھ‘‘ یعنی ’’موت کا مینار‘‘ کا نام بھی وابستہ ہوگیا۔ تقریباً 46 میٹر بلند یہ مینار آج بخارا کی سب سے نمایاں تاریخی علامتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت اس کے پراسرار نام سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ عمارت قراخانی دور کے فنِ تعمیر، بخارا کی مذہبی و شہری زندگی، منگول یلغار اور وسطی ایشیا میں تقریباً نو سو سال کے سیاسی و تہذیبی تغیرات کی خاموش گواہ ہے۔
مینارِ کلان کی موجودہ عمارت 1127ء میں قراخانی حکمران ارسلان خان محمد کے دور میں تعمیر کی گئی۔ اس کے معمار کا نام باقو بتایا جاتا ہے۔ بخارا اس وقت وسطی ایشیا کا ایک اہم علمی، تجارتی اور مذہبی مرکز تھا۔ شاہراہِ ریشم پر واقع ہونے کی وجہ سے مختلف علاقوں سے تاجر، علماء اور مسافر اس شہر سے گزرتے تھے۔ یونیسکو کے مطابق بخارا کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے اور یہ وسطی ایشیا کے قرونِ وسطیٰ کے بہترین محفوظ شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مینارِ کلان اسی طویل تاریخی تسلسل کی ایک اہم یادگار ہے۔
مینار کی تعمیر اپنے زمانے کی انجینئرنگ کا غیر معمولی نمونہ تھی۔ اس کی بلندی تقریباً 46.5 میٹر اور بنیاد پر قطر تقریباً 9 میٹر ہے۔ مینار پکی ہوئی اینٹوں سے بنایا گیا اور اس کا جسم اوپر جاتے ہوئے بتدریج پتلا ہوتا جاتا ہے۔ اس کی بیرونی سطح پر اینٹوں کو مختلف انداز سے ترتیب دے کر خوبصورت جیومیٹریائی نقش تخلیق کیے گئے۔ یوں ایک ہی اینٹ عمارت کی مضبوطی کا ذریعہ بھی بنی اور اس کی آرائش کا وسیلہ بھی۔ بالائی حصے میں سولہ محرابی حصے موجود ہیں، جہاں تک اندرونی گھومتی ہوئی سیڑھیوں کے ذریعے رسائی حاصل کی جاتی تھی۔ یونیسکو نے بھی مینارِ کلان کی اینٹوں کی آرائش کو قراخانی دور کے فنِ تعمیر کی ایک غیر معمولی مثال قرار دیا ہے۔
مینارِ کلان کو سمجھنے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ اسے سزائے موت دینے کے لیے تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد مذہبی تھا اور اسے نماز کے لیے اذان دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بارہویں صدی کے بخارا میں جب جدید لاؤڈ اسپیکر یا بلند عمارتیں موجود نہیں تھیں، اس قدر بلند مقام سے دی جانے والی اذان شہر کے بڑے حصے تک پہنچ سکتی تھی۔ مختلف ادوار میں مینار کو نگرانی، اہم اعلانات اور شہر میں دور سے دکھائی دینے والے ایک نمایاں نشان کے طور پر بھی استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مینار مذہبی مقصد کے لیے تعمیر ہوا تھا تو پھر اسے ’’موت کا مینار‘‘ کیوں کہا جانے لگا؟ ازبکستان کے سرکاری سیاحتی ادارے کے مطابق بعد کے تاریخی ادوار میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب سزا یافتہ افراد کو اس بلند مینار سے گرا کر سزائے موت دینے کی روایت موجود تھی۔ اسی نسبت سے اسے بعد میں ’’Tower of Death‘‘ کہا جانے لگا۔ تاہم تحقیقی اعتبار سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ’’موت کا مینار‘‘ اس عمارت کا اصل تاریخی نام نہیں اور نہ ہی اسے اس مقصد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ ایسی سزاؤں کے زمانے، تعداد اور ان سے منسلک تمام مشہور واقعات کے بارے میں یکساں تفصیلی دستاویزی شواہد دستیاب نہیں، اس لیے اس حصے کو احتیاط کے ساتھ تاریخی روایت کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
مینارِ کلان کی تاریخ کا سب سے دلچسپ باب 1220ء میں چنگیز خان کے بخارا پر حملے سے جڑا ہوا ہے۔ منگول افواج کی یلغار کے نتیجے میں بخارا کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیسکو کے مطابق شہر میں منگول حملے سے پہلے کی بہت کم اہم عمارتیں بعد کے ادوار تک باقی رہیں، اور مینارِ کلان ان نمایاں آثار میں شامل ہے جو اس تباہی کے باوجود محفوظ رہے۔ یہی حقیقت بعد میں چنگیز خان اور مینارِ کلان کے متعلق ایک مشہور داستان کی بنیاد بھی بنی۔
بخارا میں آج بھی ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ چنگیز خان جب مینارِ کلان کے قریب پہنچا اور اس کی چوٹی دیکھنے کے لیے سر اوپر اٹھایا تو اس کا خود یا ٹوپی زمین پر گر گئی۔ اسے اٹھانے کے لیے اسے جھکنا پڑا۔ روایت کے مطابق اس نے مینار کی عظمت سے متاثر ہوکر اسے تباہ نہ کرنے کا حکم دیا۔ ازبکستان کا سرکاری سیاحتی ادارہ بھی اس مشہور داستان کا ذکر کرتا ہے، لیکن یہاں روایت اور ثابت شدہ تاریخ میں فرق کرنا ضروری ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1220ء کے منگول حملے کے باوجود مینارِ کلان باقی رہا، لیکن چنگیز خان کے خود گرنے، اس کے جھکنے اور اسی وجہ سے مینار کو بچانے کے حکم کی تفصیلات ایک مقبول روایت ہیں، جنہیں قطعی تاریخی واقعہ قرار دینے کے لیے مضبوط معاصر دستاویزی شہادت محدود ہے۔
مینارِ کلان کا باقی رہ جانا اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کے اردگرد موجود بخارا کئی مرتبہ سیاسی اور عسکری تبدیلیوں سے گزرا۔ قراخانی دور ختم ہوا، منگول آئے، بعد میں مختلف وسطی ایشیائی سلطنتوں نے اس علاقے پر حکومت کی اور شہر کی تعمیراتی صورت بھی بدلتی رہی، لیکن مینار اپنی جگہ قائم رہا۔ آج اس کے ساتھ نظر آنے والی کلان مسجد اور میرِ عرب مدرسہ بھی پوئی کلان کے عظیم تعمیراتی مجموعے کا حصہ ہیں، تاہم یہ تمام عمارتیں ایک ہی زمانے کی نہیں۔ مینار بارہویں صدی کی یادگار ہے، جبکہ موجودہ مجموعے کی دوسری نمایاں عمارتیں بعد کی صدیوں میں تعمیر ہوئیں۔ اس طرح پوئی کلان کا میدان دراصل بخارا کی کئی صدیوں کی تعمیراتی تاریخ کو ایک ہی جگہ جمع کرتا ہے۔
بخارا کا تاریخی مرکز 1993ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یونیسکو کے مطابق دو ہزار سال سے زیادہ قدیم بخارا شاہراہِ ریشم پر واقع وسطی ایشیا کے اہم ترین تاریخی شہروں میں سے ایک رہا ہے۔ اس کی شہری ساخت، مدارس، مساجد، مقبرے اور مینار اس خطے میں اسلامی فنِ تعمیر اور شہری تہذیب کی کئی صدیوں کی ترقی کو محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ مینارِ کلان کو اس پورے تاریخی منظرنامے میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
مینارِ کلان کی تقریباً نو سو سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اسے محض ’’موت کے مینار‘‘ کے عنوان تک محدود کرنا اس عمارت کی تاریخی اہمیت کو بہت چھوٹا کردیتا ہے۔ سزائے موت سے وابستہ روایت اس کی طویل تاریخ کا صرف ایک حصہ ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک مذہبی مینار تھا، پھر شہر کی علامت بنا، منگول یلغار سے بچا اور صدیوں کے سیاسی و سماجی تغیرات کے باوجود قائم رہا۔ اسے تعمیر کروانے والے حکمران کی سلطنت ختم ہوگئی، اس کا معمار صدیوں پہلے دنیا سے رخصت ہوگیا اور بخارا پر حکومت کرنے والی کئی طاقتیں تاریخ کا حصہ بن گئیں، لیکن معمار باقو سے منسوب یہ عمارت آج بھی بخارا کے افق پر موجود ہے۔
اسی لیے شاید مینارِ کلان کی اصل کہانی موت سے زیادہ بقا کی کہانی ہے۔ تقریباً نو سو سال سے یہ مینار آنے اور جانے والی نسلوں کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے سلطنتوں کو بنتے اور مٹتے دیکھا، بخارا پر حملے دیکھے اور ایک قدیم شہر کو جدید ازبکستان کا حصہ بنتے دیکھا۔ ’’موت کا مینار‘‘ اس کا پراسرار لقب ضرور ہے، مگر تاریخ کی نگاہ سے دیکھا جائے تو مینارِ کلان دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان اور سلطنتیں وقت کے ساتھ رخصت ہوجاتی ہیں، مگر بعض اوقات ان کا تعمیر کردہ فن صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔