یش کی بڑے بجٹ کی فلم ’ٹاکسک‘ باکس آفس پر توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہو گئی کہ فلم کی تیاری کے دوران یش نے ہدایت کاری سمیت مختلف معاملات پر غیر معمولی اثر و رسوخ رکھا۔ فلم میں اہم کردار ادا کرنے والے اکشے اوبرائے نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیٹ پر انہیں صرف ہدایت کار گیتھو موہن داس نے ڈائریکٹ کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم نے بھارت میں ابتدائی طور پر 100 کروڑ روپے سے زیادہ کی اوپننگ کی، تاہم بعد میں اس کے بزنس میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ہندی ورژن کا مجموعی بزنس تقریباً 150 کروڑ روپے جبکہ فلم کی مجموعی کمائی قریب 300 کروڑ روپے رہی، جب کہ اس کا بجٹ 500 کروڑ روپے سے زائد بتایا گیا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اکشے اوبرائے نے کہا کہ کسی فلم کی ناکامی کے بعد اس کا تجزیہ کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن ہر اچھی فلم کامیاب اور ہر کمزور فلم ناکام نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پوری ٹیم نے فلم پر بھرپور محنت کی اور اسے بین الاقوامی معیار پر بنانے کی کوشش کی، تاہم کسی مرحلے پر فلم ناظرین سے مطلوبہ انداز میں جڑ نہیں سکی۔
یش کی جانب سے فلم پر مکمل کنٹرول رکھنے کی خبروں پر اکشے اوبرائے نے کہا کہ ان کے ذاتی تجربے میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ سیٹ پر موجود تھے اور انہیں صرف گیتھو موہن داس نے ہدایت دی، جبکہ وہ مستقبل میں بھی ان کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔
اکشے اوبرائے نے یش کو انتہائی خوداعتماد اور اپنے فیصلوں پر یقین رکھنے والا اداکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوسروں کے انتظار میں نہیں رہتے۔ ان کے مطابق یش نے ’کے جی ایف‘ کے ذریعے کنڑ سنیما کو پورے بھارت میں مقبول بنایا اور ’ٹاکسک‘ کے ذریعے اسے بین الاقوامی سطح تک لے جانے کی کوشش کی، اگرچہ یہ تجربہ توقع کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا۔
اکشے نے یہ بھی بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے بعد پوسٹ پروڈکشن کے دوران وہ یش کے ساتھ ہندی ڈائیلاگز، اسکرپٹ، وی ایف ایکس اور کاروباری پہلوؤں پر گفتگو کرتے رہے۔ ان کے مطابق انہوں نے فلم کے بعض کرداروں کی آوازیں بھی ریکارڈ کیں جنہیں بعد میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تبدیل کیا گیا۔ اکشے کا کہنا تھا کہ یش کے ساتھ کام کرنے سے انہیں فلم سازی اور اپنے کیریئر کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔