چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ چین ایران کے ساتھ رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ اس کے ’جائز حقوق اور مفادات‘ کے تحفظ کے لیے بھی تعاون جاری رکھے گا۔
وانگ یی نے ایران اور امریکا دونوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ کشیدگی کے دوران تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور معاملات کو مزید بگڑنے سے روکیں۔
چینی وزیرِ خارجہ نے دونوں ممالک کو اسلام آباد میمورنڈم کی طرف واپس جانے اور باہمی تشویش کے معاملات پر بامعنی اور عملی مشاورت شروع کرنے کی بھی ترغیب دی۔
ملاقات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ وانگ یی نے کہا کہ تمام فریق ایسے مؤثر اقدامات کریں جن سے اس اہم بحری گزرگاہ کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جا سکے۔
چین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی یمن اور بحیرۂ احمر تک مزید نہ پھیلے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور فریقین کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کے حق میں ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ کے مطابق بیجنگ کی ایران سے متعلق پالیسی مستقل اور مستحکم ہے اور چین تہران کے ساتھ رابطہ، ہم آہنگی اور تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ موجودہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔