پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم ورلڈ ایتھلیٹکس الٹی میٹ چیمپیئن شپ میں سیزن کی بہترین تھرو کے باوجود پانچویں پوزیشن حاصل کر سکے، جبکہ سری لنکا کے رمیش پتھیراج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیت لیا۔
ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہونے والے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے میں ارشد ندیم نے اپنی تیسری کوشش میں 81.49 میٹر کی تھرو کی، جو رواں سیزن میں ان کی بہترین کارکردگی تھی، تاہم یہ فاصلہ میڈل کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکا۔
سری لنکا کے رمیش پتھیراج نے چوتھے راؤنڈ میں 91.09 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز 86.18 میٹر کے ساتھ دوسرے جبکہ جرمنی کے جولین ویبر 85.89 میٹر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
ارشد ندیم نے مقابلے کا آغاز 74.42 میٹر کی تھرو سے کیا۔ دوسری کوشش میں انھوں نے اپنی کارکردگی بہتر کرتے ہوئے 79.66 میٹر اور تیسری کوشش میں 81.49 میٹر کی تھرو کی۔
مقابلے کے فارمیٹ کے مطابق صرف ابتدائی چار کھلاڑی ہی فیصلہ کن چوتھے راؤنڈ میں جگہ بنا سکتے تھے۔ ارشد ندیم پانچویں نمبر پر رہنے کے باعث اگلے مرحلے میں نہ پہنچ سکے اور ان کا سفر تین تھروز کے بعد ختم ہو گیا۔
ابتدائی مرحلے میں جرمنی کے جولین ویبر نے 84.09 میٹر کی تھرو کے ساتھ برتری حاصل کی تھی، تاہم بعد میں اینڈرسن پیٹرز نے 86.18 میٹر کی تھرو کے ذریعے انھیں پیچھے چھوڑ دیا۔ رمیش پتھیراج نے پہلے 85.69 میٹر اور پھر 87.11 میٹر کی تھرو کی، جس کے بعد انھوں نے آخری مرحلے میں 91.09 میٹر کی زبردست تھرو کے ساتھ مقابلہ تقریباً یکطرفہ بنا دیا۔
یہ نتیجہ ارشد ندیم کے لیے ایک مشکل سیزن کا تسلسل ہے۔ پیرس اولمپکس 2024 میں انھوں نے 92.97 میٹر کی اولمپک ریکارڈ تھرو کے ساتھ پاکستان کے لیے طلائی تمغہ جیتا تھا، تاہم 2026 میں وہ اب تک اس فارم کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکے۔
رواں سیزن کے آغاز میں ارشد ندیم سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مقابلے میں نویں نمبر پر رہے، جبکہ گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز کے دوران بھی وہ فائنل راؤنڈ تک رسائی حاصل نہ کر سکے تھے۔ وہاں ان کی بہترین تھرو 77.41 میٹر رہی تھی۔
اب ارشد ندیم کی نظریں جاپان کے شہر آئیچی ناگویا میں ہونے والے ایشین گیمز پر ہوں گی، جہاں مردوں کے جیولن تھرو کا فائنل 28 ستمبر کو شیڈول ہے۔ حالیہ شاندار فارم کے باعث سری لنکا کے رمیش پتھیراج کو اس مقابلے میں مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔