ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بہت گرم چائے یا کافی پینے والے افراد میں غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی غذائی وبائیات کی ماہر ڈاکٹر کیرن پیپیئر کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 9 لاکھ 77 ہزار افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ چائے اور کافی کس درجۂ حرارت پر پینا پسند کرتے ہیں اور روزانہ کتنے کپ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی صحت کا ایک دہائی سے زائد عرصے تک برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے ریکارڈ کے ذریعے جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے دوران 2 ہزار 348 افراد میں غذائی نالی کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ نتائج کے مطابق جو افراد مشروبات بہت گرم پیتے تھے، ان میں غذائی نالی کے اسکوامس سیل کارسینوما نامی کینسر کا خطرہ نیم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا۔
محققین کے مطابق صرف درجۂ حرارت ہی نہیں بلکہ روزانہ پینے والے کپوں کی تعداد بھی اہم تھی۔ روزانہ چھ یا اس سے زیادہ کپ چائے یا کافی پینے والوں میں بھی اس کینسر کے خطرے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ تعلق چائے اور کافی دونوں میں تقریباً یکساں تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطرہ مشروب کے اجزا سے زیادہ اس کے زیادہ گرم ہونے سے جڑا ہو سکتا ہے۔
البتہ تحقیق میں غذائی نالی کے دوسرے بڑے کینسر، اڈینوکارسینوما، اور مشروبات کے درجۂ حرارت کے درمیان واضح تعلق نہیں ملا۔ محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تحقیق تعلق ظاہر کرتی ہے، براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے یا کافی کو بہت زیادہ گرم حالت میں پینے کے بجائے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دینا ایک سادہ احتیاطی قدم ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے معاشروں میں جہاں گرم مشروبات کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں، مشروبات کا درجۂ حرارت کم کرنا غذائی نالی کے اس مخصوص کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔