امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک بڑا انتخابی وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر امریکی بالغ کو 5 ہزار ڈالر کا ’’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘‘ دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ اعلان ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن سے خطاب کے دوران کیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس منصوبے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی، ادائیگی کس طریقے سے ہوگی اور اسے قانونی طور پر کیسے نافذ کیا جائے گا۔
امریکا میں تقریباً 270 ملین بالغ افراد موجود ہیں۔ اس حساب سے اگر ہر بالغ شہری کو 5 ہزار ڈالر دیے جائیں تو اس منصوبے پر تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے ووٹرز سے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے روز ایسے ووٹ ڈالیں جیسے وہ خود بھی بیلٹ پر موجود ہوں۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے، جن میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ موجودہ سیاسی ماحول میں ریپبلکنز کو کئی اہم ریاستوں اور حلقوں میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔
وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آنے والا 5 ہزار ڈالر کا یہ وعدہ امریکی انتخابی مہم میں ایک اہم موضوع بن گیا ہے، تاہم اس کے مالی اور قانونی پہلو ابھی واضح نہیں ہیں۔