بھارت کی مختلف ریاستوں میں اسکول کے طلبہ نے بنیادی سہولیات کی کمی، خستہ حال عمارتوں اور اساتذہ کی قلت کے خلاف احتجاج شروع کر دیے ہیں۔ یہ مظاہرے حالیہ مہینوں میں نوجوانوں کی جانب سے ہونے والے ’جنریشن زی‘ احتجاج کے بعد سامنے آئے ہیں اور انہیں اب ’جنریشن الفا‘ کی نئی تحریک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے گاؤں سموہی بھٹ پوروا کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کے 122 بچوں نے 22 اگست کو کلاسوں میں جانے سے انکار کر دیا۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ خستہ حال اسکول کی جگہ نئی عمارت تعمیر کی جائے۔ بچوں کا کہنا تھا کہ موجودہ عمارت اتنی خراب ہے کہ انہیں اس کے گرنے کا خوف رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے آخر سے مہاراشٹرا، بہار، راجستھان، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش سمیت کم از کم 10 بھارتی ریاستوں میں اسکول کے بچوں نے اسی نوعیت کے احتجاج کیے ہیں۔ ان کے مطالبات میں اساتذہ کی دستیابی، مناسب عمارتیں، بینچ، پینے کا پانی، بجلی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات شامل ہیں۔
بھارت میں تقریباً 24 کروڑ 70 لاکھ بچے 15 لاکھ اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں، جن میں قریب 70 فیصد اسکول وفاقی، ریاستی یا مقامی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں تعلیمی رسائی اور اساتذہ و طلبہ کے تناسب میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق کئی سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں۔
بھارت کے حق تعلیم کے قانون کے تحت 6 سے 14 سال کے بچوں کے لیے تعلیم بنیادی حق ہے اور اسکولوں میں محفوظ عمارت، پانی، صفائی اور مناسب اساتذہ کی موجودگی ضروری قرار دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ملک میں ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول موجود ہیں جہاں تمام جماعتوں کے لیے صرف ایک استاد تعینات ہے، جبکہ تقریباً 29 لاکھ بچے ایسے اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔
حالیہ احتجاج کو اس سے قبل ہونے والی ’جنریشن زی‘ تحریک سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جس میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، بے روزگاری اور تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف نوجوانوں نے احتجاج کیا تھا۔ اب اسکول کے کم عمر طلبہ بھی تعلیمی سہولیات اور بہتر ماحول کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی بھرتی، امتحانی نظام اور طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول میں وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومتیں طلبہ کے مسائل پر توجہ نہ دیں تو آنے والے برسوں میں ایسے احتجاج مزید بڑھ سکتے ہیں۔