نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے دو کارکنوں کو نو روز بعد زندہ نکال لیا گیا ہے۔ بچائے جانے والوں میں 30 سالہ مکینیکل فورمین سنجے ساہ اور مکینیکل سپروائزر کبیر مہارجن شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دونوں کارکن نیپال کے ضلع راسووا میں اپر تریشولی تھری اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنس گئے تھے۔ علاقے میں برف، چٹانوں اور ملبے کے شدید ریلے نے وادی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
سنجے ساہ نے ریسکیو کے بعد بتایا کہ حادثے کے وقت وہ سرنگ کے اندر کنٹرول روم میں موجود تھے۔ سیلاب کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے دیگر کارکنوں کو فوری طور پر باہر نکلنے کا کہا، تاہم دوسروں کی مدد کرتے ہوئے وہ خود وقت پر سرنگ سے باہر نہ نکل سکے۔
ساہ کے مطابق ان کی ذمہ داری دوسروں کی جانیں بچانا تھی اور اتنے بڑے حادثے کے وقت ساتھیوں کو چھوڑ کر بھاگنا انہیں درست نہیں لگا۔ انہوں نے بتایا کہ نو روز تک اندھیرے میں پھنسے رہنے کے دوران وہ دعائیں پڑھتے رہے اور امید قائم رکھی۔
نیپالی حکام کے مطابق تریشولی دریا کے ساتھ قائم چھ پن بجلی منصوبوں کی سرنگوں میں کم از کم 900 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ سنجے ساہ اور کبیر مہارجن ان منصوبوں کی سرنگوں سے زندہ نکالے جانے والے پہلے کارکن ہیں۔
رائٹرز کے مطابق نیپال میں اس تباہی کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1,287 افراد ہلاک جبکہ 5,083 افراد لاپتہ ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر بھی ہو چکے ہیں۔ چین کے تبت میں بھی اس آفت کے نتیجے میں 21 افراد کی ہلاکت اور 541 کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔