امریکی چِپ ساز کمپنی این ویڈیا نے مصنوعی ذہانت کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس کو تقریباً 12.93 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے این ویڈیا اوپن سورس اے آئی ماڈلز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانا چاہتی ہے۔
معاہدے کے تحت این ویڈیا ہگنگ فیس کے سرمایہ کاروں کو تقریباً 11.9 ارب ڈالر ادا کرے گی، جبکہ کمپنی میں شامل ہونے والے ملازمین کے لیے ایک ارب ڈالر تک کا حصص پر مبنی پروگرام بھی رکھا گیا ہے۔
این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ ہگنگ فیس اپنی موجودہ کھلی نوعیت برقرار رکھے گا اور ڈویلپرز پر این ویڈیا کی چِپس استعمال کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق صارفین اپنی ضرورت کے مطابق ماڈلز، چِپس اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز کا انتخاب کر سکیں گے۔
ہگنگ فیس ایک مقبول پلیٹ فارم ہے جہاں ڈویلپرز مختلف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ڈیٹا سیٹس اور سافٹ ویئر ٹولز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اوپن سورس ماڈلز کی مقبولیت میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے کیونکہ انہیں کاروباری ادارے اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل اور نسبتاً کم لاگت پر استعمال کر سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ معاہدہ این ویڈیا کی اب تک کی بڑی خریداریوں میں شامل ہے۔ کمپنی کے پاس جولائی کے آخر تک 22 ارب ڈالر سے زیادہ نقد رقم موجود تھی اور وہ چِپ سازی کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے دیگر شعبوں میں بھی اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں اور ڈویلپرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مستقبل میں ہگنگ فیس پر این ویڈیا کے حریف ہارڈویئر کو کم ترجیح دی جا سکتی ہے۔ این ویڈیا کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پورے مصنوعی ذہانت کے نظام کے لیے کھلا رہے گا۔
ہگنگ فیس کی بنیاد 2016 میں فرانسیسی کاروباری افراد کلیمان ڈیلانگ، جولین شومون اور تھامس وولف نے رکھی تھی۔ کمپنی کی آخری ظاہر کردہ قدر 2023 میں تقریباً 4.5 ارب ڈالر تھی۔