امریکا کا چینی حمایت یافتہ ہیکرز پر ناسا، فیڈرل ریزرو اور سینیٹ کو نشانہ بنانے کا الزام

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں ایسے آن لائن نظام کو غیر فعال کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر چین کی سرپرستی میں کام کرنے والے ہیکرز امریکی سرکاری اداروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق نشانہ بنائے گئے اداروں میں امریکی خلائی ادارہ ناسا، فیڈرل ریزرو، محکمہ توانائی اور امریکی سینیٹ بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے نظام میں کامیاب دراندازی بھی ہوئی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق مبینہ کارروائیاں ’’کیو ٹی ایف وائی‘‘ نامی گروہ سے منسلک تھیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ چین کی نانجنگ شِن جیووئی نیٹ ورک ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے کام کرتا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس گروہ نے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی اور پیپلز لبریشن آرمی سمیت مختلف صارفین کے لیے ہیکنگ خدمات فراہم کیں۔

امریکی حکام کے مطابق ’’کیو اسکین‘‘ اور ’’کیو ٹی روٹر‘‘ نامی دو نظام ہیکنگ سرگرمیوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کے ذریعے نقصان دہ انٹرنیٹ سرگرمی کو چین سے باہر متاثرہ آلات کے راستے منتقل کیا جاتا تھا، جس سے اس کی اصل جگہ چھپانے میں مدد ملتی تھی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق اس گروہ سے منسلک سرگرمیاں کم از کم 2018 سے جاری تھیں اور امریکا کے علاوہ دیگر ممالک کے حساس نظام بھی اس کے ممکنہ اہداف میں شامل رہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ اداروں کے کن مخصوص نظاموں کو نشانہ بنایا گیا یا کسی حساس معلومات تک رسائی حاصل ہوئی یا نہیں۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائی کا مقصد مبینہ چینی سائبر سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے بنیادی ڈھانچے کو غیر فعال کرنا اور حساس سرکاری و نجی نیٹ ورکس کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانا تھا۔

چین نے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہیکنگ کی مخالفت کرتا ہے اور ایسی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ امریکی بیان میں ٹھوس شواہد موجود نہیں اور واشنگٹن سائبر سلامتی کو بنیاد بنا کر چین پر الزامات عائد کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سائبر معاملات کو برابری کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں