سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے سائنس دانوں نے ملک کے شمالی شہر عرعر کے قریب پانچ غاروں سے سات ایسے چیتوں کی لاشیں دریافت کیں جو قدرتی طور پر ممی کی شکل میں محفوظ ہو گئی تھیں۔ یہ باقیات 2022 اور 2023 میں جنگلی حیات کے سروے کے دوران ملیں اور ان میں نرم بافتیں اور ہڈیاں غیر معمولی طور پر محفوظ تھیں۔
تحقیق کے دوران تین ممی شدہ چیتوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے دو قدیم نمونے جینیاتی طور پر شمال مغربی افریقی چیتے کی قسم Acinonyx jubatus hecki کے زیادہ قریب تھے۔ اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ سعودی عرب میں صرف ایشیائی چیتا پایا جاتا تھا، جو اب انتہائی معدومی کے خطرے سے دوچار ہے اور اس کی محدود آبادی ایران میں باقی ہے۔
یہ دریافت اس بات کا پہلا جسمانی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ جزیرہ نما عرب میں ماضی میں چیتوں کی کم از کم دو مختلف اقسام موجود تھیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتیجہ سعودی عرب میں چیتوں کو دوبارہ متعارف کرانے کے منصوبوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب سائنس دان بہتر طور پر جان سکتے ہیں کہ کون سی نسلیں تاریخی طور پر اس ماحول میں کامیابی سے رہتی تھیں۔
سات ممی شدہ چیتوں کے علاوہ غاروں سے مزید 54 چیتوں کے ڈھانچے بھی ملے۔ پانچ نمونوں کی عمر کا تعین کیا گیا، جن میں سب سے قدیم تقریباً 4 ہزار سال پرانا نکلا، جبکہ ڈی این اے کے لیے استعمال ہونے والی دو ممیوں کی عمر تقریباً 130 سے 1,870 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف احمد البوق کے مطابق چیتوں کا غاروں میں رہنا خود ایک غیر معمولی رویہ ہے، جبکہ انتہائی خشک ماحول نے ان کے جسموں کو قدرتی طور پر محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سائنس دان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چیتے غاروں میں کیوں جاتے تھے اور آیا یہ جگہیں ان کے باقاعدہ رہنے یا افزائش کے مقامات تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان باقیات میں کم عمر اور بالغ دونوں چیتے شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جانور صرف اس علاقے سے گزر نہیں رہے تھے بلکہ یہاں مستقل آبادی کے طور پر رہتے اور افزائش بھی کرتے تھے۔ اس دریافت سے یہ تصور مضبوط ہوا ہے کہ جزیرہ نما عرب ماضی میں چیتوں کے لیے ایک اہم قدرتی علاقہ تھا۔
سعودی عرب میں اب بڑے محفوظ قدرتی علاقوں کے قیام، جنگلی حیات کی بحالی اور شکار پر قابو پانے کے اقدامات کے باعث چیتوں کی دوبارہ آبادکاری کے امکانات پر کام کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی جینیاتی معلومات اس منصوبے کو محض ایک امید کے بجائے زیادہ سائنسی اور تاریخی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔