ازبکستان نے بھارتی شہریوں کے لیے 30 روزہ ویزا فری نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ صدر شوکت مرزائیوف نے یہ اعلان تاشقند میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے دوران کیا، جو ازبکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر موجود تھے۔
ازبک صدارتی پریس سروس کے مطابق نئے ویزا فری نظام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط، سیاحت، کاروباری دوروں اور باہمی آمدورفت کو بڑھانا ہے۔ صدارتی پریس سیکریٹری شیرزاد اسدوف نے بھی تصدیق کی کہ بھارتی شہری 30 دن تک بغیر ویزا ازبکستان میں قیام کر سکیں گے۔
ملاقات کے دوران صدر شوکت مرزائیوف نے بھارت کو ازبکستان کا قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت، مشترکہ کاروباری منصوبوں اور رابطہ کاری میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔
دونوں ممالک نے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانے پر اتفاق کیا۔ طے پایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک الگ طریقۂ کار قائم کیا جائے گا، جو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا اور تعاون کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرے گا۔
صدر مرزائیوف کے مطابق گزشتہ سال ازبکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 33 فیصد اضافہ ہوا اور اس کا حجم 1.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ دونوں ممالک نے 2030 تک باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔
ازبکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری سہولت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے سیاحت، کاروبار، تعلیم اور عوامی سطح پر روابط میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔