اسلام آباد کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی پمز، ملک کے سب سے بڑے اور اہم سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں سے مریض علاج کی امید لے کر پہنچتے ہیں۔ مگر پمز میں پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعے نے صرف ایک ہسپتال کے انتظامی اور حفاظتی نظام پر سوال نہیں اٹھایا بلکہ پاکستان کے مجموعی سرکاری صحت کے نظام کی حالتِ زار کو بھی ایک بار پھر قوم کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پمز میں نومولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے کے واقعے نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا۔ ننھی جانیں، جنہوں نے ابھی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا، اچانک ایک ایسے سانحے کا شکار ہو گئیں جس کے بارے میں سوچنا بھی دل دہلا دیتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے، اعلیٰ سطحی انکوائری کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کی بات کی جا رہی ہے۔
وزیر صحت اور دیگر حکام نے بھی معاملے کی مکمل تحقیقات اور جواب دہی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ لیکن پاکستان میں عوام کا اصل مسئلہ صرف انکوائری کے اعلان سے حل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں تقریباً ہر بڑے سانحے کے بعد کمیٹی بنتی ہے، تحقیقات ہوتی ہیں، ذمہ داروں کا تعین کرنے کی بات کی جاتی ہے، چند افسران کو معطل کیا جاتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد معاملہ آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس بار سوال یہ ہے کہ کیا پمز کے واقعے کی تحقیقات واقعی کسی نتیجے تک پہنچیں گی یا یہ بھی ماضی کے کئی سانحات کی طرح صرف فائلوں کا حصہ بن کر رہ جائے گا؟
پمز کا واقعہ دراصل ہمیں پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال پر نظر ڈالنے پر مجبور کرتا ہے۔ پاکستان کے بیشتر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ مریضوں کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ ایمرجنسی وارڈز میں گنجائش سے کہیں زیادہ مریض موجود ہوتے ہیں، بیڈز کی کمی ایک مستقل مسئلہ ہے، بعض جگہوں پر مریضوں کو ٹیسٹ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، کہیں ادویات کی قلت کی شکایت ہوتی ہے، کہیں مشینری خراب پڑی ہوتی ہے اور کہیں عملے کی کمی پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں پر سب سے زیادہ بوجھ اس لیے بھی ہے کیونکہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نجی ہسپتالوں کے مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتی۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سرکاری ہسپتال صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ زندگی کی آخری امید ہوتے ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں اچھے ڈاکٹر موجود نہیں۔ پاکستان کے پاس قابل اور تجربہ کار ڈاکٹرز، سرجنز، نرسز اور طبی عملہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی جگہوں پر بہترین انسانی صلاحیت بھی ایک کمزور انتظامی نظام کی وجہ سے اپنی پوری کارکردگی نہیں دکھا پاتی۔ اگر جدید مشین موجود ہو لیکن اسے چلانے والا تربیت یافتہ عملہ نہ ہو تو مشین بے کار ہو جاتی ہے۔ اگر فائر ایکسٹنگوشر دیوار پر لگا ہوا ہو لیکن عملے کو اسے استعمال کرنا نہ آتا ہو تو وہ بھی کسی کام نہیں آتا۔ اگر ایمرجنسی راستہ موجود ہو لیکن وہ بند ہو، اگر فائر الارم موجود ہو لیکن وہ فعال نہ ہو، اور اگر حفاظتی انتظامات صرف کاغذوں تک محدود ہوں تو پھر ایک معمولی خرابی بھی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی ایک اور بڑی مشکل مریضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر کئی علاقوں میں طبی سہولیات اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند بڑے ہسپتال پورے صوبے یا پورے خطے کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے، عملے پر دباؤ بڑھتا ہے اور انتظامی کمزوریاں مزید نمایاں ہو جاتی ہیں۔ ہمیں بڑے شہروں کے چند ہسپتالوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ضلعی اور تحصیل سطح پر صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ہر مریض کو معمولی علاج کے لیے لاہور، کراچی، اسلام آباد یا پشاور کے بڑے ہسپتالوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ اس معاملے میں حکومتوں کو صرف عمارتیں بنانے کے بجائے نظام کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔
ہسپتال کی نئی عمارت کا افتتاح آسان ہے، لیکن اس کے بعد اس عمارت کو چلانے کے لیے ڈاکٹر، نرسز، ٹیکنیشن، بجٹ، ادویات، مشینری کی دیکھ بھال اور مؤثر انتظامیہ درکار ہوتی ہے۔ اصل اصلاحات اسی وقت ہوں گی جب صحت کے شعبے کو سیاسی اعلانات کے بجائے ایک قومی ترجیح سمجھا جائے گا۔ ہر حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صحت پر خرچ دراصل عوام کی زندگی اور ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
پمز کا سانحہ صرف ان خاندانوں کا دکھ نہیں جنہوں نے اپنے نومولود بچے کھوئے۔ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ آج سوال ان 14 ننھی جانوں کا ہے، لیکن کل سوال کسی دوسرے ہسپتال، کسی دوسرے شہر اور کسی دوسرے خاندان کا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کو صرف چند دن کی خبر بنا کر فراموش نہ کیا جائے۔ تحقیقات ضرور ہوں، مگر تحقیقات کے نتائج بھی سامنے آئیں۔ ذمہ داروں کا تعین بھی ہو، مگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی ہو۔ اور سب سے بڑھ کر ایسا نظام بھی بنایا جائے جو آئندہ کسی ماں کو اپنے بچے کی لاش اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔ کیونکہ ہسپتالوں کا مقصد زندگی بچانا ہوتا ہے، جانیں خطرے میں ڈالنا نہیں۔
پمز میں پیش آنے والا واقعہ ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کیا ہمارے سرکاری ہسپتال واقعی مریضوں کے لیے محفوظ ہیں؟ کیا ہمارے پاس کسی بڑے حادثے سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے؟ اور کیا ہم ہر سانحے کے بعد صرف افسوس کریں گے یا اس بار واقعی اپنے نظام کو بدلنے کا فیصلہ کریں گے؟ پمز کا سانحہ ایک وارننگ ہے، ایک انتہائی دردناک وارننگ، اور اب یہ حکومت، اداروں اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس وارننگ کو سنجیدگی سے لیا جائے، کیونکہ اگلا سانحہ روکنے کا وقت ہمیشہ سانحے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے ہوتا ہے۔