مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں روزگار، معیشت اور انسانی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان خطرات کو جان بوجھ کر کم ظاہر کر رہی ہیں کیونکہ اس شعبے میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو قریب سے سمجھنے والے کئی ماہرین نجی طور پر شدید تشویش رکھتے ہیں، لیکن بہت کم صنعت کار عوامی سطح پر ان خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔
بل گیٹس نے بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہونے کے امکان کو خاص طور پر سنگین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی ٹیکنالوجی نے نئی ملازمتیں پیدا کیں، لیکن مصنوعی ذہانت مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بیک وقت معیشت کے کئی شعبوں میں انسانی کام کی جگہ لے سکتی ہے اور متاثرہ افراد کے لیے دوسرے شعبوں میں روزگار کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر خصوصی ٹیکس لگایا جائے تاکہ انسانی کارکنوں کی جگہ مشینوں کو استعمال کرنا نسبتاً مہنگا ہو اور اس رقم سے بے روزگار ہونے والوں کی مدد کی جا سکے۔ بل گیٹس کے مطابق بعض شعبوں، خاص طور پر نگہداشت اور انسانی تعلق سے جڑے کاموں میں مصنوعی ذہانت کو انسان کی مکمل جگہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بل گیٹس نے حیاتیاتی دہشت گردی کے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت خطرناک جراثیم یا نئی بیماریوں کی تیاری میں غلط استعمال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایسے نظاموں کی لازمی جانچ، عالمی نگرانی اور بین الاقوامی معاہدوں کا مطالبہ کیا، جبکہ صرف کمپنیوں کی اپنی نگرانی کو ناکافی قرار دیا۔
بل گیٹس نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر بھی ایک تفصیلی مضمون شائع کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنا دنیا کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے فوائد بہت بڑے ہیں، لیکن اگر بروقت ضابطے اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات بھی عالمی سطح پر انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔